سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 120 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 120

سيرة النبي علي 120 جلد 1 وہ اس میں شریک کر لیتے لیکن رسول کریم ﷺ نے اپنی اولاد کو ایسا تو کل کا سبق دینا چاہا کہ اسے صدقات سے بھی محروم کر دیا اور زکوۃ وصدقہ دونوں کی نسبت حکم دے دیا کہ میری اولا د اور اولاد کی اولاد کے لیے زکوۃ وصدقہ کا لینا نا جائز ہے۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْتَى بِالتَّمْرِ عِنْدَ صِرَامِ النَّخْلِ فَيَجِيءُ هذَا بِتَمُرِهِ وَهَذَا مِنْ تَمُرِهِ حَتَّى يَصِيْرَ عِنْدَهُ كَوْمًا مِنْ تَمْرٍ فَجَعَلَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَلْعَبَان بذلِكَ التَّمْرِ فَأَخَذَ أَحَدُهُمَا تَمْرَةً فَجَعَلَهَا فِي فِيْهِ فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْرَجَهَا مِنْ فِيْهِ فَقَالَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَأْكُلُوْنَ الصَّدَقَةَ 42 کھجور کے کٹنے کے وقت رسول کریم ﷺ کے پاس کھجور میں لائی جاتی تھیں۔ہر ایک اپنی اپنی کھجوریں صلى الله لاتا تھا اور رسول کریم ﷺ کے آگے رکھ دیتا یہاں تک کہ آپ کے پاس ایک ڈھیر ہو جاتا۔ایک دفعہ ایسا ہوا کہ حسن اور حسین رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا اُن کھجوروں سے کھیلنے لگے اور ان میں سے ایک نے ایک کھجور لی اور اپنے منہ میں ڈال لی۔پس اُن کی طرف رسول کریم ﷺ نے دیکھا اور کھجور ان کے منہ سے نکال دی اور فرمایا کہ تجھے علم نہیں کہ آل محمد مصدقہ نہیں کھایا کرتے۔اللہ اللہ ! کیسی احتیاط ہے۔کیا ہی تو کل ہے۔ایک کھجور بچے نے منہ میں ڈال لی تو اس میں حرج نہ تھا۔لیکن آپ کا تو کل ایسا نہ تھا جیسا کہ عام لوگوں کا ہوتا ہے۔آپ چاہتے تھے کہ بچپن سے ہی بچوں کے دلوں میں وہ ایمان اور توکل پیدا کر دیں کہ بڑے ہو کر وہ کبھی صدقات کی طرف توجہ نہ کریں اور خدا کی ہی ذات پر بھروسہ رکھیں۔صلى الله رسول کریم ع کی جائیداد نہ صرف یہ کہ رسول کریم ﷺ نے اپنی اولا د کو صدقہ سے محروم کر دیا بلکہ خود بھی