سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 121
سيرة النبي علي 121 جلد 1 کوئی ایسی جائیداد نہیں چھوڑی جس سے آپ کے بعد آپ کی بیویوں اور اولاد کی پرورش اور گزارہ کا انتظام ہو سکتا۔ممکن تھا کہ یہ خیال کر لیا جاتا کہ گو آپ نے اپنی آل کے لیے ہمیشہ کے لیے کوئی سامان نہیں مہیا کیا لیکن اپنے موجودہ رشتہ داروں کے لیے کوئی سامان کر دیا۔لیکن یہ بھی نہیں ہوا۔اور جس وقت فوت ہوئے ہیں اُس وقت آپ کے گھر میں کوئی روپیہ نہیں تھا۔عمرو بن حرث فرماتے ہیں مَا تَرَكَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ مَوْتِهِ دِرُهَمًا وَلَا دِيْنَارًا وَلَا عَبْدًا وَلَا أَمَةً وَلَا شَيْئًا إِلَّا بَغْلَتَهُ الْبَيْضَاءَ وَسَلَاحَهُ وَأَرْضًا جَعَلَهَا صَدَقَةً 43 رسول كريم علي نے اپنی وفات کے وقت کچھ نہیں چھوڑا۔نہ کوئی درہم ، نہ دینار ، نہ غلام ، نہ لونڈی اور نہ کچھ اور چیز سوائے اپنی سفید خچر اور اپنے ہتھیاروں کے اور ایک زمین کے جسے آپ صدقہ میں دے چکے تھے۔یاد رکھنا چاہیے کہ آپ کی حیثیت ایک بادشاہ کی تھی اور آپ چاہتے تو اپنے رشتہ داروں کے لیے کچھ سامان کر سکتے تھے اور کم سے کم اس قدر روپیہ چھوڑ جانا تو آپ کے لیے کچھ مشکل نہ تھا کہ جس سے آپ کی بیویوں اور اولاد کا گزارہ ہو سکے۔آپ کے پاس صرف خزانہ کا روپیہ ہی نہ رہتا تھا کہ جس کا اپنی ذات پر خرچ کرنا آپ گناہ تصور فرماتے تھے اور اس کا ایک جبہ بھی آپ استعمال نہیں کرتے تھے بلکہ خود آپ کی ذات کے لیے بھی آپ کے پاس بہت مال آتا تھا اور صحابہؓ اُس اخلاص اور عشق کے سبب جو انہیں آپ سے تھا بہت سے تحائف پیش کرتے رہتے تھے اور اگر آپ اس خیال سے کہ میرے بعد میرے رشتہ دار کس طرح گزارہ کریں گے ایک رقم جمع کر جاتے تو کر سکتے تھے لیکن آپ کے وسیع دل میں جو خدا تعالیٰ کی ہیبت اور اس کے جلال کا جلوہ گاہ تھا ، جو یقین و معرفت کا خزانہ تھا یہ دنیاوی خیال سما بھی نہیں سکتا تھا۔جو کچھ آتا آپ اسے غرباء میں تقسیم کر دیتے اور اپنے گھر میں کچھ بھی نہ رکھتے حتی کہ آپ کی وفات نے ثابت کر دیا کہ وہ خدا کا بندہ جو دنیا سے نہیں بلکہ خدا