سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 41 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 41

( حضرت ابوبکر) ہے۔اس کا جواب بھی نہ دیا گیا تو اس نے پھر تین دفعہ پکار کر کہا کہ کیا تم میں ابن الخطاب ( حضرت عمر ) ہے۔پھر بھی جب جواب نہ ملا تو اس نے اپنے ساتھیوں کی طرف مخاطب ہو کر کہا کہ یہ لوگ مارے گئے ہیں۔اس بات کو سن کر حضرت عمر برداشت نہ کر سکے اور اور فرمایا کہ اے خدا کے دشمن تو نے جھوٹ کہا ہے جن کا تو نے نام لیا ہے وہ سب کے سب زندہ ہیں اور وہ چیز جسے تو نا پسند کرتا ہے ابھی باقی ہے۔اس جواب کو سنکر ابو سفیان نے کہا کہ آج کا دن بدر کا بدلہ ہو گیا۔اور لڑائیوں کا حال ڈول کا سا ہوتا ہے تم اپنے مقتولوں میں بعض ایسے پاؤ گے کہ جن کے ناک کان کٹے ہوئے ہوں گے۔میں نے اس بات کا حکم نہیں دیا تھا لیکن میں اس بات کو نا پسند بھی نہیں کرتا۔پھر فخر یہ کلمات بآواز بلند کہنے لگا أغل هيك أغل ٹھیک یعنی اے ہبل ( بت) تیرا درجہ بلند ہواے ہبل تیرا درجہ بلند ہو۔اس پر رسول کریم صلی السلام نے فرمایا کہ تم اس کو جواب کیوں نہیں دیتے۔صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ہم کیا کہیں ؟ آپ نے فرمایا کہو کہ خدا تعالیٰ ہی سب سے بلند 66 رتبہ اور سب سے زیادہ شان والا ہے۔ابوسفیان نے یہ بات سنکر کہا ” ہمارا تو ایک بت عزمی ہے اور تمہار کوئی عرب کی نہیں۔جب صحابہ خاموش رہے تو رسول کریم نے فرمایا کہ کیا تم جواب نہیں دیتے۔صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم کیا کہیں۔آپ نے فرمایا انہیں کہو کہ ”خدا ہمارا دوست و کارساز ہے اور تمہارا کوئی دوست نہیں“۔اس واقعہ سے اچھی طرح معلوم ہو سکتا ہے کہ آنحضرت صلی یا ایتم خدا تعالیٰ کے معاملہ میں کیسے باغیرت تھے۔ابوسفیان اپنی جھوٹی فتح کے نشہ میں مخمور ہو کر زور سے پکارتا ہے کہ کیا آپ زندہ ہیں لیکن آپ اپنی جماعت کو منع فرماتے ہیں کہ تم ان باتوں کا جواب ہی نہ دو اور خاموش رہو۔ایک عام آدمی جو اپنے نفس پر ایسا قابو نہ رکھتا ہو ایسے موقع پر بولنے سے 41