سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 40 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 40

یعنی رسول کریم صلی یا یہ تم نے پیادہ فوج کے پچاس آدمیوں پر احد کے دن عبد اللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کو مقر رکیا اور فرمایا کہ اگر تم یہ بھی دیکھ لو کہ ہمیں جانو را چک رہے ہیں تب بھی اپنی اس جگہ سے نہ ہلنا جب تک تم کو میں کہلا نہ بھیجوں۔اور اگر تم یہ معلوم کر لو کہ ہم نے دشمن کو شکست دے دی ہے اور ان کو مسل دیا ہے تب بھی اس وقت تک کہ تمہیں کہلا نہ بھیجا جائے اپنی جگہ نہ چھوڑنا۔اس کے بعد جنگ ہوئی اور مسلمانوں نے کفار کو شکست دے دی۔حضرت براء فرماتے ہیں خدا کی قسم میں دیکھ رہا تھا کہ عورتیں کپڑے اٹھا اٹھا کر بھاگ رہی تھیں اور ان کی پنڈلیاں ننگی ہو رہی تھیں اس بات کو دیکھ کر عبداللہ بن جبیر کے ساتھیوں نے کہا کہ اے قوم غنیمت کا وقت ہے غنیمت کا وقت ہے تمہارے ساتھ غالب آگئے پھر تم کیا انتظار کر رہے ہو اس پر عبداللہ بن جبیر نے انہیں کہا کہ کیا تم رسول کریم صلی اینم کاحکم بھول گئے ہو۔انہوں نے کہا کہ خدا کی قسم ہم بھی ساری فوج سے مل کر غنیمت حاصل کریں گے۔جن لشکر سے آکر مل گئے تو ان کے منہ پھیرے گئے اور شکست کھا کر بھاگے اسی کے بارہ میں قرآن شریف کی یہ آیت نازل ہوئی ہے کہ یاد کرو جب رسول تم کو پیچھے کی طرف بلا رہا تھا اور رسول کریم صلی شما یہ یتیم کے ساتھ سوائے بارہ آدمیوں کے اور کوئی نہ رہا اس وقت کفار نے ہمارے ستر آدمیوں کا نقصان کیا اور رسول کریم صلی شی پہ ستم اور آپ کے اصحاب نے جنگ بدر میں کفار کے ایک سو چالیس آدمیوں کا نقصان کیا تھا۔ستر قتل ہوئے تھے اور ستر قید کئے گئے تھے۔غرضیکہ جب لشکر پراگندہ ہو گیا اور رسول کریم کے گرد صرف ایک قلیل جماعت ہی رہ گئی تو ابوسفیان نے پکار کر کہا کہ کیا تم میں محمد سلیم ہے اور اس بات کو تین بار دہرایا لیکن رسول کریم نے لوگوں کو منع کر دیا کہ وہ جواب نہ دیں۔اس کے بعد ابوسفیان نے تین دفعہ بآواز بلند کہا کہ کیا تم میں ابن ابی قحافہ 40