سیرت النبی ؐ — Page 42
کبھی باز نہیں رہ سکتا اور لاکھ میں سے ایک آدمی بھی شاید مشکل سے ملے جو اپنے دشمن کی جھوٹی خوشی پر اس کی خوشی کو غارت کر نا پسند نہ کرے۔لیکن چونکہ ابوسفیان اس دعوی سے رسول کریم کی ذات کی ہتک کرنا چاہتا تھا اور یہ ظاہر کرنا چاہتا تھا کہ میں نے ان کو قتل کر دیا ہے اسلئے رسول کریم نے نہ صرف خود جواب نہ دیا بلکہ صحابہ کو بھی منع کر دیا۔مگر جونہی کہ ابو سفیان نے خدا تعالیٰ کی ذات پر حملہ کیا اور سر میدان شرک کا اعلان کیا اور بجائے خدا تعالیٰ کی عظمت بیان کرنے کے ہبل بت کی توصیف کی تو آپ برداشت نہ کر سکے اور صحابہ کو حکم دیا کہ اسے جواب دو کہ خدا کے سوا اور کوئی نہیں جو عظمت و جلال کا مالک ہو۔پھر جب اس نے یہ ظاہر کیا کہ عزمی ہمارا مددگار ہے آپ نے صحابہ کو حکم دیا کہ اسے کہ دو کہ ہمارا خدا مددگار ہے اور ہم کسی اور کی مددنہیں چاہتے اور یہ بات بھی خوب یا درکھو کہ خدا ہماری مدد کرے گا اور تمہاری مدد کر نے والا کوئی نہ ہوگا۔اللہ اللہ اپنے نفس کے متعلق کیا صبر ہے اور خدا تعالیٰ اور اس کے دین کی کیسی غیرت ہے۔الَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلَّمْ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ :- رسول کریم صلی ایم کی غیرت دینی کے ظاہر کرنے کے لئے اگر چہ پچھلی مثال بالکل کافی تھی لیکن میں اس جگہ ایک واقعہ بھی لکھ دینا ضروری سمجھتا ہوں جس سے خوب روشن ہوجاتا ہے کہ رسول کریم صلی یتیم نہ صرف دشمنوں کے مقابلہ میں غیرت دینی کا اظہار فرماتے تھے بلکہ دوستوں سے بھی اور کوئی حرکت ایسی ہوتی جس سے احکام الہیہ کی ہتک ہوتی ہو تو آپ اس پر اظہار غیرت سے باز نہ رہتے اور اس خیال سے خاموش نہ رہتے : کہ یہ ہمارے دوستوں کی غلطی ہے اسے نظر انداز کر دیا جائے۔42