سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 74 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 74

قیس ابن شماس رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ تھے اور رسول کریم کے ہاتھ میں کھجور کی ایک شاخ کا ٹکڑا تھا۔آپ آئے یہاں تک کہ مسیلمہ کے سامنے کھڑے ہو گئے اور وہ اپنے ساتھیوں میں بیٹھا تھا۔آپ نے فرمایا کہ اگر تو مجھ سے یہ شاخ بھی مانگے تو میں تجھے نہ دوں اور جو کچھ خدا نے تیرے لئے مقدر کیا ہے تو اس سے آگے نہیں بڑھے گا اور اگر تو پیٹھ پھیر کر چلا جائے گا تو اللہ تیری کونچیں کاٹ دے گا اور میں تو تجھے وہی شخص پاتا ہوں جس کی نسبت مجھے وہ نظارہ دیکھایا گیا تھا جو میں نے دیکھا اور یہ ثابت ہیں میری طرف سے تجھے جواب دیں گے پھر آپ وہاں سے چلے گئے۔حضرت ابن عباس فرماتے ہیں میں نے پوچھا کہ یہ رسول اللہ نے کیا فرما یا ہے کہ میں تو تجھے وہی شخص پاتا ہوں جس کی نسبت وہ نظارہ دکھا یا گیا تھا جو میں نے دیکھا اس پر مجھے حضرت ابو ہریرہ نے بتایا کہ رسول کریم نے فرمایا تھا کہ ایک دفعہ میں سو رہا تھا کہ میں نے دیکھا میرے دونوں ہاتھوں میں دوکڑے ہیں جو سونے کے ہیں ان کا ہونا مجھے کچھ نا پسند سا معلوم ہوا اس پر مجھے خواب میں وحی نازل ہوئی کہ میں ان پر پھونکوں جب میں نے پھونکا تو وہ دونوں اڑ گئے۔پس میں نے تعبیر کی کہ دو جھوٹے ہوں گے جو میرے بعد نکلیں گے ایک تو عنسی ہے اور دوسرا مسیلمہ۔اس واقعہ سے معلوم ہوسکتا ہے کہ آنحضرت مالی یہ تم کو خدا تعالیٰ پر کیسا یقین تھا اور آپ خدا تعالیٰ کی مدد پر کیسے مطمئن تھے۔آپ کے چاروں طرف کافروں کا زور تھا جو ہر وقت آپ کو دکھ دیتے اور ایذاء پہنچانے میں مشغول رہتے تھے اور جن جن ذرائع سے ممکن ہوتا آپ کو تکلیف پہنچاتے تھے۔قیصر و کسری بھی اپنے اپنے حکام کو آپ کے مقابلہ کے لئے احکام پر احکام بھیج رہے تھے بنی غسان لڑنے کے لئے تیاریاں کر رہے تھے ایرانی اس بڑھتی ہوئی طاقت کو حسد و حیرت کی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے اور ہر ایک حکومت اس 74