سیرت النبی ؐ — Page 75
نئی تحریک پر شک و شبہ کی نگاہیں ڈال رہی تھی۔ایسے وقت میں جب تک ایک لشکر جرار آنحضرت کے ارد گرد جمع نہ ہوتا آپ کے لئے اپنے دشمنوں کی زد سے بچنا بظا ہر مشکل بلکہ ناممکن نظر آتا تھا مدینہ منورہ سے لے کر مکہ مکرمہ تک کی فتوحات نے آپ کو ہر ایک آس پاس کی حکومت کے مد مقابل کھڑا کر دیا تھا اور دور میں نگاہیں ابتداء امر میں ہی اس بڑھنے والی طاقت کو تباہ کر دینے کی فکر میں تھیں کیونکہ انہیں یقین تھا کہ یہ طاقت اگر اور زیادہ بڑھ گئی تو ہمارے بڑے بڑے قصور محلات کی اینٹ سے اینٹ بجا دے گی پھر آنحضرت ان عظیم الشان مظاہروں کے مقابلہ کے لئے جو کچھ تیاری کرتے کم تھی۔انسانی عقل ایسی حالت میں جس طرح دوست و دشمن کو اپنے ساتھ ملانا چاہتی ہے اور جن جن تدابیر سے غیروں کو بھی اپنے اندر شامل کرنا چاہتی ہے وہ تاریخ کے پڑھنے والوں کو آسانی سے سمجھ میں آسکتی ہیں۔لیکن وہ میرا پیارا ز مینی نہیں بلکہ آسمانی تھا۔بڑھتے ہوئے لشکر اور دوڑتے ہوئے گھوڑے۔اٹھتے ہوئے نیزے اور چمکتی ہوئی تلواریں اس کی آنکھوں میں کچھ حقیقت نہیں رکھتی تھیں وہ ملائکہ آسمانی کا نزول دیکھ رہا تھا اور زمین و آسمان کا پیدا کنندہ اس کے کان میں ہر دم تسلی آمیز کلام ڈال رہا تھا اس کا دل یقین سے پر اور سینہ ایمان سے معمور تھا۔غرضیکہ بجائے دنیاوی اسباب پر بھروسہ کرنے کے اس کا تو کل خدا پر تھا۔پھر بھلا ان مصائب سے وہ کب گھبرا سکتا تھا اس نے مسیلمہ اور اس کے لشکر پر بھروسہ کرنا ایک دم کے لئے بھی مناسب نہ جانا اور صاف کہ دیا کہ خلافت کا دھوکہ دے کر تجھے اپنے ساتھ ملانا اور تیری قوم کی اعانت حاصل کرنی تو علیحد ہ امر ہے ایک کھجور کی شاخ کے بدلہ میں بھی اگر تیری حمایت حاصل کرنی پڑے تو میں اس کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھوں۔اس غیور دل کی حالت پر غور کرو۔اس متوکل انسان کی شان پر نظر ڈالو۔اس یقین 75