سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 34 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 34

کچھ آدمی ایسے ہوتے ہیں جو خود بڑے بڑے کام طلب کرتے ہیں کہ ہمیں اگر ایسی مصیبت کا موقع ملے تو ہم یوں کریں اور یوں کریں اور اس طرح دین کی خدمت کریں لیکن رسول کریم کی نسبت اس کے خلاف ہے۔آپ کبھی پسند نہ فرماتے تھے کہ کوئی انسان خدا تعالیٰ سے ابتلاؤں کی خواہش کرے کیونکہ کوئی کیا جانتا ہے کہ کل کیا ہوگا۔ممکن ہے کہ خدا کی غیرت اسے تباہ کر دے۔ممکن ہے کہ اس کے اپنے اعمال کی کمزوری اس کے آگے آجائے ممکن ہے کہ شیطان اس کے دل پر تسلط پا کر اسے خراب کر دے اور یہ گمراہ ہو جائے چنانچہ آپ خود بھی بجائے ابتلاؤں کی آرزو کرنے کے ان سے بچنے کی دعا کرتے تھے۔حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں كَانَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ مِنْ جَهْدِ الْبَلَاءِ وَدَرْكِ الشَّقَاءِ وَسَوْءٍ القَضَاءِ وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ ( بخاری کتاب الدعوات باب التعوذ من جهد البلاء) رسول کریم ہمیشہ خدا سے پناہ مانگتے تھے کہ مجھ پر کوئی ایسی مصیبت نہ آئے جو میری طاقت سے بڑھ کر ہو کوئی ایسا کام نہ پیش آجائے کہ جس کا نتیجہ ہلاکت ہو۔اور کوئی خدا کا فیصلہ ایسا نہ ہو کہ جس کو میں ناپسند کروں اور کوئی ایسا فعل سرزد نہ ہو کہ جس سے میرے دشمنوں کو خوشی کا موقع ملے۔اس دعا سے معلوم ہوسکتا ہے کہ آپ کے دل میں کیسی خشیت الہی تھی اور آپ اپنے آپ کو خدا تعالی کے مقابلہ میں کیسا کمزور جانتے اور کبھی اپنی بڑائی کے لئے اور اپنے ایمان کے اظہار کے لئے کسی بڑے کام یا ابتلاء کی آرزو نہ فرماتے اور یہی حقیقی ایمان ہے جس کی اقتداء کا مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے۔لَقَد كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنةٌ (الاحزاب:۲۲) رسول کریم ماتم کی ایک اور دعا بھی ہے جو آپ ہمیشہ خدا تعالیٰ سے طلب فرماتے۔اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے دل میں کس قدر خوف الہی تھا ابو موسیٰ 34