سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 33 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 33

اس کتاب پر جو تو نے نازل کی ہے اور اس رسول پر جو تو نے بھیجا ہے ایمان لاتا ہوں۔لوگ اپنی دوکان کو بند کرتے وقت اس کا حساب کر لیتے ہیں مگر خدا سے جو حساب ہے اسے صاف نہیں کرتے مگر کیسا برگزیدہ وہ انسان تھا جو صبح سے شام تک خدا کے فرائض کے ادا کرنے میں لگا رہتا اور خود ہی انہیں ادا نہ کرتا بلکہ ہزاروں کی نگرانی بھی ساتھ ہی کرتا تھا کہ وہ بھی اپنے فرائض کو ادا کرتے ہیں یا نہیں مگر رات کو سونے سے پہلے اپنی تمام کوششوں اور عبادتوں سے آنکھ بند کر کے عاجزانہ اپنے مولیٰ کے حضور میں اس طرح حساب صاف کرنے کے لئے کھڑا ہو جا تا کہ گویا اس نے کوئی خدمت کی ہی نہیں اور اس وقت تک نہ سوتا جب تک اپنی جان کو پورے طور سے خدا کے سپردکر کے دنیا و مافیھا سے براءت نہ ظاہر کر لیتا اور خدا کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ نہ دے لیتا۔لطیفہ: -اس دعا سے ایک عجیب نکتہ معلوم ہوتا ہے اور وہ یہ کہ رسول کریم کو اپنی نبوت پر اس قدر یقین کامل تھا کہ آپ معین تنہائی میں ہر روز سوتے وقت خدا کے سامنے اقرار فرماتے کہ مجھے اپنی نبوت پر ایمان ہے اور اسی طرح قرآن شریف پر بھی ایمان ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اپنی تعلیم کو لوگوں کے لئے قابل عمل نہیں جانتے تھے بلکہ سب سے پہلے اپنے نفس کو کہتے تھے کہ یہ حکم خدا کا آیا ہے اور اس کا رسول یوں کہتا ہے کہ اس پر ایمان لا۔اس لئے تو آپ فرماتے ہیں کہ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَ نَبِيَكَ الَّذِي أَرْسَلَتَ آپ ابتلاؤں اور عذابوں سے پناہ مانگتے رہتے :- بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے وہ خواہ مخواہ اپنے آپ کو فتنوں میں ڈالتے ہیں اور اس طرح اپنے نفس کا امتحان کرتے ہیں مگر یہ لوگ بعض دفعہ ان فتنوں میں ایسے گرتے ہیں کہ پھر سنبھلنے کی طاقت نہیں رہتی اور بجائے ترقی کرنے کے ان کا قدم نیچے ہی نیچے چلا جاتا ہے 33