سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 35 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 35

فرماتے ہیں آپ ہمیشہ دعا فرماتے تھے کہ اَللَّهُمَّ اغْفِرْ لِيَ خَطِيئَتِيَ وَجَهْلِيَ وَاسْرَا فِي فِي أَمْرِئ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنَى اللَّهُمَّ اغْفِرْلِی هَزَ لِى وَجِدَىٰ وَخَطَايَايَ وَعَمْدِىٰ وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدِئ ( بخاری کتاب الدعوات باب قول النبی ﷺ اللهم اغفر لي ما قدمت واخرت)اے اللہ میرے اعمال کے نتائج بد سے مجھے محفوظ رکھ اور میری خطاؤں کے نتائج سے بھی۔میں اگر اپنی ناواقفیت کی وجہ سے کوئی کام جو کرنا ہو نہ کروں یا کوئی کام جس حد تک مناسب تھا اس سے زیادہ کر بیٹھوں اور جسے تو میری نسبت زیادہ جانتا ہے تو اس کے نتائج سے بھی مجھے محفوظ رکھ۔اے اللہ اگر کوئی بات میں بے دھیان کہ بیٹھوں یا متانت سے کہوں غلطی سے کہوں یا جان کر کہوں اور یہ سب کچھ مجھ میں ممکن ہے پس تو ان میں سے اگر کسی فعل کا نتیجہ بد نکلتا ہو تو اس سے مجھے محفوظ رکھیو۔حضرت عائشہ رسول کریم کی ایک اور دعا بھی بیان فرماتی ہیں اور وہ بھی اس بات پر شاہد ہے کہ جو ایمان وخشیت رسول کریم سیا ستم میں تھی اس کی نظیر کسی اور انسان میں نہیں مل سکتی۔انسان دعا اس سے مانگتا ہے جس پر یقین ہو کہ یہ کچھ کر سکتا ہے۔ایک موحد جو بتوں کی بیکسی سے واقف ہے کبھی کسی بت کے آگے جا کر ہاتھ نہیں پھیلائے گا کیونکہ اسے مین ہے کہ یہ بہت کچھ نہیں کر سکتے لیکن ایک بت پرست ان کے آگے بھی ہاتھ جوڑ کر اپنا حال دل کہہ سناتا ہے کیونکہ اسے ایمان ہے کہ یہ بت بھی خدا تعالیٰ کے قرب کا ایک ذریعہ ہیں۔فقیر بھی اس بات کو دیکھ لیتے ہیں کہ فلاں شخص دے گا یا نہیں اور جس پر انہیں یقین ہو کہ کچھ دے گا اس سے جا کر طلب کرتے ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آدمی اس سے کچھ مانگتا ہے جس پر اسے ایمان ہو کہ اس سے ملے گا۔رسول کریم کا ہر وقت خدا سے امداد طلب کرنا ، نصرت کی درخواست کرنا اور اٹھتے بیٹھتے اسی کے کواڑ کھٹکھٹانا ، اسی سے حاجت روائی 35