سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 17 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 17

بتاؤ کہ کیا اس قربانی اس فدائیت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ہمارا رسول صلی سیستم ایسے اخلاق رکھتا تھا کہ جن کی نظیر دنیاوی بادشاہوں میں تو خیر تلاش کرنی ہی فضول ہے دینی بادشا ہوں یعنی نبیوں میں بھی نہیں مل سکتی۔اور اگر کوئی نبی ایسے اخلاق رکھتا تو ضرور اس کی امت بھی اس پر اس طرح فدا ہوتی جس طرح آپ پر۔مگر اس اخلاق کے مقابلہ کے ساتھ عربوں کی آزادی کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے۔اس موقع پر میں ایک اور نظیر دینی بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ جس سے مردوں کے علاوہ عورتوں کے اخلاص کا نمونہ بھی ظاہر ہو جائے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جَاءَتْ هِنْدُ بِئْتُ عُتْبَةَ فَقَالَتْ يَارَسُولَ اللَّهِ مَا كَانَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ مِنْ أَهْلِ خِبَاءٍ أَحَبَ إِلَى أَنْ يَذِلُّوْ مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ ثُمَّ مَا أَصْبَحَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَهْلُ خِبَاءٍ أَحَبَّ إِلَى أَنْ يَعِزُّ وَااَهْلِ خِبَائِكَ ( بخاری کتاب المناقب باب ذکر هند بنت عتبہ یعنی ہند بنت عتبہ آئی اور اس نے حضرت رسول اللہ صلی ای ایم سے عرض کیا کہ یا رسول الله الا ایک روئے زمین پر کوئی خیمہ والا نہ تھا جس کی نسبت میں آپ سے زیادہ ذلت کی خواہشمند ہوں اور اب روئے زمین پر کوئی گھر والا نہیں جس کی نسبت میں آپ کے گھر والوں سے زیادہ عزت کی خواہشمند ہوں۔اس عورت کی طرف دیکھو یا تو وہ بغض تھا یا ایسی فریفتہ ہوگئی اور اس کی وجہ سوائے ان اخلاق کریمہ اور اس نیکی اور تقویٰ کے کیا تھی جو آپ میں پائے جاتے تھے۔اللہ تعالیٰ بھی اس کی یہی وجہ بیان فرماتا ہے۔چنانچہ قرآن شریف میں لکھا ہے فيما رَحْمَةٍ مِنَ اللهِ لِنْتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنتَ فَظًّا غَلِيْنَا الْقَلْبِ لَا نُفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ ( آل عمران :۱۶۰) غرض کہ ان اخلاق حسنہ کا ایسا نیک اثر پڑا کہ ایک ایک کر کے تمام عرب قبیلے آپ کی خدمت میں آحاضر ہوئے۔بھلا اس واقعہ کا عمر و بن ہند کے واقعہ سے مقابلہ تو کر کے دیکھو بہیں تفاوت راه از کجا است تا بکجا “۔17