سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 18 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 18

رسول کریم کے اخلاق حسنہ کے متعلق آپ کی بیوی کی گواہی :- اس وقت تک تو میں نے آنحضرت کے اخلاق حسنہ کو آپ کے صحابہ کی فدائیت سے ثابت کیا ہے اب ایک اور طریق سے اس امر پر روشنی ڈالتا ہوں۔آدمی کا سب سے زیادہ تعلق اپنی بیوی سے ہوتا ہے کیونکہ اس کے پاس روزانہ بہت سا وقت خرچ کرنا پڑتا ہے اور بہت سی ضر رویات میں اس کے ساتھ مشارکت اختیار کرنی پڑتی ہے اس لئے یہ توممکن ہے کہ انسان باہر لوگوں کے ساتھ تکلف کے ساتھ نیک اخلاق کے ساتھ پیش آسکے اور ایک وقت کے لئے اس گند کو چھپالے جو اس کے اندر پوشیدہ ہولیکن یہ بات بالکل ناممکن ہے کہ کوئی اپنی برائیوں اور بدخلقیوں کو اپنی بیوی سے پوشیدہ رکھ سکے کیونکہ علاوہ ایک دائمی صحبت اور ہر وقت کے تعلق کے بیوی پر مرد کو کچھ اختیار بھی ہوتا ہے اور اس کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر وہ اپنی فطری بداخلاقی کا اکثر اوقات اس کے سامنے اظہار کر دیتا ہے۔پس انسان کے اخلاق کا بہتر سے بہتر گواہ اس کی بیوی ہوتی ہے جس کا تجربہ دوسرے لوگوں کے تجربہ سے بہت زیادہ صحیح مشاہدات پر مبنی ہوتا ہے۔آنحضرت سالی ایم کے اخلاق کے متعلق جو گواہی حضرت خدیجہ نے دی ہے وہ آپ صلی یا یہ نیم کے نیک اخلاق کو ثابت کرنے کے لئے کافی سے زیادہ ہے اور اس کے بعد کسی زائد شہادت کی ضرورت نہیں رہتی۔حضرت عائشہ وحی کی ابتداء بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں کہ جب پہلی دفعہ آنحضرت سلی ایلام پر وحی نازل ہوئی تو آپ بہت گھبرائے اور غار حرا سے گھر کی طرف لوٹے اور آپ کا دل دھڑک رہا تھا حضرت خدیجہ کے پاس آکر آپ نے فرمایا کہ مجھے کپڑا اوڑھا دو۔جلد کپڑا اوڑھا دو۔جس پر آپ پر کپڑا ڈالا گیا یہاں تک کہ آپ کا کچھ خوف کم ہوا اور آپ نے سب واقعہ حضرت خدیجہ کو سنایا اور فرمایا کہ مجھے تو اپنی نسبت کچھ خوف پیدا ہو گیا ہے۔اس بات کو سنکر جو کچھ 18