سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 16 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 16

سے واقف ہوں۔لیکن میں سچ سچ کہتا ہوں کہ کوئی مصلح ایسے وسیع اخلاق لے کر دنیا میں نہیں آیا جیسا کہ ہمارا آقا سلایا کہ تم اور اس لئے کسی مصلح کی جماعت نے ایسی فدائیت نہیں دکھائی جیسے ہمارے آنحضرت مصلای سی ایلم کے صحابہ نے چنانچہ بخاری شریف میں صلح حدیبیہ کے واقعات میں مسور بن مخرمہ کی روایت ہے کہ جب آپ حدیبیہ میں ٹھہرے ہوئے تھے تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ مایا یہ ہم تھوکتے تھے تو صحابہ اچک کر آپ کا تھوک اپنی منہ اور ہاتھوں پر مل لیتے تھے اور جب وضو کر نے لگتے تو وضو کے بچے ہوئے پانی کے لینے کے لئے اس قدر لڑتے کہ گویا ایک دوسرے کو قتل کر دیں گے۔اور جب آپ کوئی حکم دیتے تھے تو ایک دوسرے کے آگے بڑھ کر اس کی تعمیل کرتے اور جب آپ بولنے لگتے تو سب اپنی آوازوں کو نیچا کر لیتے اور صحابہ کے اس اخلاص اور محبت کا ان ایلچیوں پر جو گفتگو کے لئے آئے تھے ایسا اثر پڑا کہ انہوں نے اپنی قوم کو واپس جا کر اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ آپ کی مخالفت سے باز آجائیں۔اسی طرح بخاری میں لکھا ہے کہ جنگ احد پر جانے کے متعلق جب آپ نے انصار سے سوال کیا تو سعد بن عبادہ نے آپ کو جواب دیا یا رسول اللہ صلی ہی تم کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ہم حضرت موسیٰ کے ساتھیوں کی طرح کہہ دیں کہ فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَا ههنا قعدون (المائدہ:۲۵) یعنی تو اور تیرا رب جاؤ اور دونوں دشمنوں سے لڑو ہم تو یہیں بیٹھے ہیں بلکہ خدا کی قسم ہم تیرے آگے بھی اور پیچھے بھی اور دائیں بھی اور بائیں بھی تیرے دشمنوں سے مقابلہ کریں گے۔اے چشم بصیرت رکھنے والو! اے فہم دل رکھنے والوخدا را ذرا اس جواب کا اس جواب سے مقابلہ تو کرو جو حضرت موسی کو ان کی امت نے دیا اور اس عمل سے بھی مقابلہ کرو جو حواریوں سے حضرت مسیح کے گرفتار ہونے کے وقت سرزد ہوا۔اور پھر 16