سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 218 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 218

سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی اس کی تکالیف میں اس پر رحم کرے۔غرضیکہ ایک طرف اپنے نواسہ کی وفات کا حال سن کر جو آپ کے بڑھاپے کی عمر کا ثمرہ تھا اور خصوصاً جب کہ آپ کے کوئی نرینہ اولاد موجود نہ تھی ،صبر کرنا اور اپنی لڑکی کو صبر کی تلقین کرنا اور دوسری طرف اس بچہ کو دکھ میں دیکھ کر آپ کے آنسوؤں کا جاری ہو جانا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کی ہر ایک قضاء پر صابر تھے اور یہ کہ آپ کا صبر سخت دلی ( نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَلِکَ) کا موجب نہ تھا بلکہ آپ کا دل رحم و شفقت سے پر تھا۔طہارۃ النفس استقلال:- قابل اور نا قابل انسان کی پرکھ میں استقلال بہت مدد دیتا ہے کیونکہ استقلال سے انسان کے بہت سے پوشیدہ در پوشیدہ اخلاق اور قوتوں کا پتہ لگ جاتا ہے اور مستقل اور غیر مستقل انسان میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ایک ایسا شخص جو بیسیوں نیک اخلاق کا جامع ہو۔لیکن اس کے اندر استقلال نہ ہو اس کے اخلاق حسنہ نہ تو اس کے نفس کی خوبی کو ثابت کر سکتے ہیں اور نہ ہی لوگوں کو ان سے کوئی معتد بہ فائدہ پہنچ سکتا ہے۔کیونکہ اگر اس میں استقلال نہیں اور وہ اپنے کاموں میں دوام اختیار نہیں کرتا تو اول تو یہی خیال ہوسکتا ہے کہ اس کے نیک اخلاق ممکن ہے کہ بناوٹ کا نتیجہ ہوں۔اور دوسرے ایک نیک کام کو شروع کر کے جب وہ درمیان میں ہی چھوڑ دے گا تو اس کا کوئی خاص فائدہ بنی نوع انسان کو نہ پہنچے گا۔بلکہ خود اس شخص کا وہ وقت جو اسنے اس ادھورے کام پر خرچ کیا تھا ضائع سمجھا جائے گا۔پس استقلال ایک طرف تو اپنے صاحب کے کاموں کی سنجیدگی اور حقیقت پر رو شنی ڈالتا ہے اور دوسری طرف اس ایک صفت کی وجہ سے انسان کے دوسرے اخلاق حسنہ اور قوائے مفیدہ کے ظہور اور نفع میں بھی خاص ترقی ہوتی ہے اس لئے اس مختصر سیرت میں 218