سیرت النبی ؐ — Page 217
ایسی روشنی ڈالی ہے کہ جس کے بعد آپ کے اسوہ حسنہ ہونے میں کوئی شک و شبہ رہ ہی نہیں سکتا۔اول تو آپ کا خلاص باللہ اس واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے کیونکہ جس وقت آپ کو اطلاع دی گئی کہ آپ کا نواسہ نزع کی حال میں ہے اور اس کی حالت ایسی بگڑ گئی ہے کہ اب اس کی موت یقینی ہوگئی ہے تو آپ نے کیا پر حکمت جواب دیا ہے کہ جو خدا تعالیٰ لے لے وہ بھی اس کا مال ہے اور جو دے دے وہ بھی اس کا مال ہے۔رضا بالقضا کا یہ نمونہ کیسا پاک کیسا اعلیٰ کیسا لطیف ہے کہ جس قدر اس پر غور کیا جائے اس قدر کمال ظاہر ہوتا ہے پھر اپنی صاحبزادی کو نصیحت کرنا کہ صبر کرو اور اللہ تعالیٰ سے ثواب کی امید رکھو اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور احسانوں پر انتہائی درجہ کے یقین اور امید پر دلالت کرتا ہے مگر صرف یہی بات نہیں بلکہ اس واقعہ سے ایک اور بات بھی ظاہر ہوتی ہے اور وہ یہ کہ آپ کا صبر اس وجہ سے نہ تھا کہ آپ کا دل نَعُوذُ باللہ سخت تھا بلکہ صبر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے احسانوں پر امید اور اس کی مالکیت پر ایمان تھا کیونکہ جیسا بیان ہو چکا ہے جب آپ اپنی صاحبزادی کے گھر پر تشریف لے گئے تو آپ کی گود میں تڑپتا ہوا بچہ رکھ دیا گیا اور آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔سعد بن عبادہ نے غلطی سے اعتراض کیا کہ یا رسول اللہ یہ صبر کیسا ہے کہ آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں۔آپ نے کیا لطیف جواب دیا کہ رحم اور چیز ہے اور صبر اور شے ہے۔رحم چاہتا ہے کہ اس بچہ کو تکلیف میں دیکھ کر ہمارا دل بھی دکھے اور دل کے درد کا اظہار آنکھوں کے آنسوؤں سے ہوتا ہے۔اور صبر یہ ہے کہ ہم اس بات پر راضی ہو جائیں کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہو اسے قبول کریں اور اس پر کرب و اضطرار کا اظہار نہ کریں۔اور اللہ تعالیٰ کا رحم جذب کرنے کیلئے تو رحم کی سخت ضرورت ہے پہلے انسان اللہ تعالیٰ کے بندوں کے دکھوں میں رحم اور شفقت کی عادت ڈالے تو پھر اس بات کا امیدوار ہو 217)