سیرت النبی ؐ — Page 219
میں آنحضرت صلی ایتم کے استقلال پر بھی کچھ لکھنا چاہتا ہوں۔یوں تو اگر غور کیا جائے تو جو کچھ میں اب تک لکھ چکا ہوں اس کا ہر ایک باب بلکہ ہر ایک ہیڈ نگ آنحضرت مالی ایم کے استقلال کا شاہد ہے اور کسی مزید تشریح کی ضرورت نہیں۔مگر سیرت کی تکمیل چاہتی ہے کہ اس کے لئے الگ ہیڈنگ بھی ضرور قائم کیا جاوے۔آنحضرت صالی ایم کی زندگی پر اگر ہم اجماعی نظر ڈالیں تو ہمیں رسول کریم سالی سیستم استقلال کی ایک مجسم تصویر نظر آتے ہیں بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ استقلال کو بھی اس نمونہ استقلال پر فکر ہے۔جو رسول کریم ملی ایتم نے دکھایا تھا۔اس حالت کو دیکھو جس میں آنحضرت سلی سلیم اللہ تعالی کی خالص عبادت کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔اور پھر اس استقلال کو دیکھو جس سے اس کام کو نباہتے ہیں۔آپ کی حالت نہ تو ایسی امیرا نہ تھی کہ دنیا کی بالکل احتیاج ہی نہ تھی۔اور گو یا آپ دنیا کی فکروں سے ایسے آزاد تھے کہ اس کی طرف توجہ کی ضرورت ہی نہ تھی اور نہ ہی آپ ایسے فقیر اور محتاج تھے کہ آرام و آسائش کی زندگی کبھی بسر ہی نہ کی تھی اس لئے دنیا کا چھوڑ نا آپ پر کچھ شاق نہ تھا مگر پھر بھی اس اوسط حالت کے باوجود جس میں آپ تھے اور جو عام طور پر بنی نوع انسان کو دنیا میں مشغول رکھتی ہے اور با وجود بیوی بچوں کی موجودگی اور ان کی فکر کے جب آپ غار حراء میں جا کر عبادت الہی میں مشغول ہوئے تو آپ کے پائے ثبات کو مشرکین کی ہنسی اور ٹھٹھے نے ذرا بھی متزلزل نہ کیا۔اور آخر اس وقت اس غار کو چھوڑا جب آسمان سے حکم آیا کہ بس اب خلوت کا زمانہ ختم ہوا اور کام کا زمانہ آ گیا جا اور ہماری مخلوق کو راہ راست پر لايَا يُّهَا الْمُدَّ ثِرُ ثُمَّ فَأَنْذِرُ وَثِيَابَكَ فَطَهَّرُ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرُ (المدر:۱،۲) اس حکم کا نازل ہونا تھا کہ وہ شخص جو باوجود ہزاروں احتیا جوں اور سینکڑوں شغلوں کے اپنے 219