سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 128 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 128

یا قید ہو جانا بالکل شکست کے مترادف ہوتا تھا اور بادشاہ کے ہاتھ سے جاتے رہنے پر فوج بے دل ہو جاتی تھی اور اس کے قدم اکھڑ جاتے تھے اور اسکی مثال ایسی ہی ہو جاتی تھی جیسے بے سر کا جسم۔کیونکہ جس کی خاطر لڑتے تھے وہی نہ رہا تو لڑائی سے کیا فائدہ۔پس بادشاہ یا سردار کا قتل یا قید کر لینا بڑی سے بڑی شکستوں سے زیادہ مفید اور نتائج قطعیہ پر منتج تھا اس لئے جس قدر خطرہ بادشاہ کو ہوتا تھا اتنا اور کسی انسان کو نہ ہوتا۔اس بات کو جو شخص اچھی طرح سمجھ لے اسے ذیل کا واقعہ محو حیرت بنا دینے کے لئے کا فی ہے عَنِ الْبَرَاءِبْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ لَهُ رَجُلْ أَفَرَرْتُمْ عَنْ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ قَالَ لَكِنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَفِرَانَ هَوَازِنَ كَانُوْ قَوْمًارَ مَاةً وَإِنَّا لَمَّا لَقِينَا هُمْ حَمَلْنَا عَلَيْهِمْ فَانْهَزَمُوْا فَأَقْبَلَ الْمُسْلِمُوْنَ عَلَى الْغَنَائِمِ وَاسْتَقْبَلُوْنَا بِالسَهَامِ فَأَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَفِرَ فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ وَإِنَّهُ لَعَلَى بَغْلَتِهِ الْبَيْضَاءِ وَإِنَّ أَبَاسْفْيَانَ أَخِذْ بِلِجَامِهَا وَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ - أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ ( بخاری کتاب الجھاد باب من قاددا بة غيره في الحرب ) براء بن عازب سے روایت ہے کہ آپ سے کسی نے کہا کہ کیا تم لوگ جنگ حنین کے دن رسول کریم کو چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔آپ نے جواب میں کہا کہ رسول کریم صلی یا یہ ستم نہیں بھاگے۔ہوازن ایک تیرانداز قوم تھی اور تحقیق ہم جب ان سے ملے تو ہم نے ان پر حملہ کیا اور وہ بھاگ گئے۔ان کے بھاگنے پر مسلمانوں نے ان کے اموال جمع کرنے شروع کئے لیکن ہوازن نے ہمیں مشغول دیکھ کر تیر برسانے شروع کئے پس اور لوگ تو بھاگے مگر رسول کریم صلی ایتم نہ بھاگے بلکہ اس وقت میں نے دیکھا تو آپ اپنی سفید خچر پر سوار تھے اور ابوسفیان نے آپ کے خچر کی لگام پکڑی ہوئی تھی اور آپ فرمارہے تھے میں نبی ہوں یہ جھوٹ نہیں ہے۔میں عبدالمطلب کی اولاد میں سے ہوں۔128