سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 127 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 127

غزوہ حنین :- رسول کریم صلی ا یہ پتہ ہی دنیا کے لئے ایک کامل نمونہ ہو سکتے ہیں کیونکہ آپ ہر ایک امر میں دوسرے انسانوں سے افضل ہیں اور ہر ایک نیکی میں دوسروں کے لئے رہنما ہیں۔ہر ایک پاک صفت آپ میں پائی جاتی ہے اور آپ کا کمال دیکھ کر آنکھیں چندھیا جاتی ہیں اور آپ کے نور سے دل منور ہو جاتے ہیں۔علماء میں آپ کسر بر آوردہ ہیں۔متقیوں میں آپ افضل ہیں۔انبیاء میں آپ سردار ہیں۔ملک داری میں آپ کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔جرات میں آپ فرد وحید ہیں۔غرض کہ ہر ایک امر میں آپ خاتم ہیں اور آپ کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔میں نے پیچھے آپ کی جرات کا ایک واقعہ بیان کیا تھا کہ کس طرح آپ سب صحابہ سے پہلے خطرہ کے معلوم کرنے اور دشمن کی خبر لینے کے لئے تن تنہا چلے گئے۔اب میں ایک اور واقعہ بیان کرتا ہوں جس سے پڑھنے والے کو خوب اچھی طرح سے معلوم ہو جائے گا کہ جو کرشمے بہادری اور جرات کے آپ نے دکھلائے وہ کوئی اور انسان نہیں دکھا سکتا۔جولوگ جنگ کی تاریخ سے واقف و آگاہ ہیں وہ جانتے ہیں کہ دشمن کا سب سے زیادہ زور افسروں اور جرنیلوں کو نقصان پہنچانے پر خرچ ہوتا ہے اور سب سے زیادہ اسی بات کی کوشش کی جاتی ہے کہ سردار لشکر اور اس کے سٹاف کو قتل و ہلاک کر دیا جائے اور یہ اصل ایسی ہے کہ پرانے زمانہ سے اس پر عمل ہوتا چلا آیا ہے بلکہ پرانے زمانہ میں تو جنگ کا دارومدار ہی اس پر تھا کہ افسرکو قتل یا قید کر لیا جائے۔اور اس کی زیادہ تر وجہ یہ ھی کہ پچھلے زمانہ میں خود بادشاہ میدان جنگ میں آتے تھے اور آپ ہی فوج کی کمان کرتے تھے اس لئے ان کا قتل (127)