سیرت النبی ؐ — Page 64
اس فن کی بڑی قدر و قیمت ہوتی ہے اور جہاں زیادہ ضرورت ہو وہاں اس فن کی ترقی بھی ہو جاتی ہے اس لئے عرب اور اس قسم کے دیگر ممالک میں جہاں رسول کریم ( فداہ ابی و اقی ) سے پہلے کوئی باقاعدہ حکومت نہ تھی اور جرائم کی کثرت تھی یہ پیشہ بڑے زوروں پر تھا اور نہایت قابل وثوق سمجھا جاتا تھا۔پس کھوجی کا یہ کہہ دینا کہ آپ مضرور یہاں تک آئے ہیں ایک بہت بڑا ثبوت تھا اور ایسی حالت میں غار کے اندر بیٹھے ہوؤں کا جو حال ہونا چاہئے وہ سمجھ میں آسکتا ہے۔وہ کیسا وقت ہوگا جب رسول کریم اور حضرت ابوبکر دونوں بغیر سلاح و ہتھیار کے غارثور کے اندر بیٹھے ہوں گے اور دشمن سر پر کھڑا با تیں بنارہا ہوگا۔غارثو رکوئی چھوٹی سی غار نہیں جس کا منہ ایسا تنگ ہو کہ جس میں انسان کا گھسنا مشکل سمجھا جائے یا جس کے اندر جھانکنا مشکل ہو بلکہ ایک فراخ منہ کی کھلی غار ہے جس کے اندر جھانکنے سے آسانی سے معلوم ہو سکتا ہے کہ کوئی اندر بیٹھا ہے یا نہیں۔پس ایسی حالت میں دنیاوی اسباب کے لحاظ سے مشرکین مکہ کے لئے یہ بات بالکل قرین قیاس بلکہ ضروری تھی کہ وہ کھوجی کے کہنے کے مطابق ذرا آنکھیں جھکا کر دیکھ لیتے کہ آیا رسول کریم غار میں تو نہیں بیٹھے اور یہ کوئی ایسا عظیم الشان کام نہ تھا کہ جسے وہ لا پرواہی سے چھوڑ دیتے کہ ایسے ضعیف خیال کی بناء پر اتنی محنت کون برداشت کرے۔پس ایسے انسانوں کا جو ایسے خطرہ کی حالت میں اس غار میں بیٹھے ہوئے ہوں گھبرانا اور خوف کرنا بالکل فطرت کے مطابق ہوتا اور میں نہیں سمجھتا کہ کوئی بہادر سے بہادر انسان بھی اس وقت خوف نہ کرتا لیکن اگر کوئی ایسا جری انسان ہو بھی جو ایسے وقت میں اپنی جان کی پرواہ نہ کرے اور بے خوف بیٹھا ر ہے اور سمجھ لے کہ اگر دشمن نے پکڑ بھی لیا تو کیا ہوا آخر ایک دن مرنا ہے تو بھی یہ امر بالکل فطرت انسانی کے مطابق ہوگا کہ 64