سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 65 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 65

ایسا آدمی جو ایسے مقام پر ہو کم سے کم یہ یقین کر لے کہ یہ لوگ ہمیں دیکھ ضرور لیں گے کیونکہ عین سرے پر پہنچ کر اور ایسی یقینی شہادت کے باوجود غار میں نظر بھی نہ ڈالنا بالکل اسباب کے خلاف ہے۔مگر ہمارا رسول فداہ ابی وامی کیا کرتا ہے؟ حضرت ابوبکر فرماتے ہیں كُنتُ مَعَ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَارِفَرَ فَعَتْ رَأْسِي فَإِذَا أَنَا بِأَقْدَامِ الْقَوْمِ فَقُلْتُ يَا رَسُوْلُ اللَّهِ لَوْ أَنَّ بَعْضَهُمْ طَاطَا بَصَرَهُ رَأَنَا قَالَ أَسْكَتْ يَا أَبَا بَكْرٍ اثْنَانِ اللَّهُ ثَالِثهما ( بخاری جلد اول کتاب المناقب باب هجرة النبي صلعم واصحابه الى المدينة ) میں رسول کریم صل السلام کے ساتھ غار میں تھا میں نے اپنا سراٹھا کر نظر کی تو تعاقب کرنے والوں کے پاؤں دیکھے اس پر میں نے رسول کریم سے عرض کیا یا رسول اللہ اگر کوئی نظر نیچی کرے گا تو ہمیں دیکھ لے گا تو آپ نے جواب میں ارشاد فر ما یا۔چپ اے ابی بکر۔ہم دو ہیں ہمارے ساتھ تیسرا خدا ہے( پھر وہ کیونکر دیکھ سکتے ہیں)۔اللہ اللہ کیا تو گل ہے۔دشمن سر پر کھڑا ہے اور اتنانزدیک ہے کہ ذرا آنکھ نیچی کرے اور دیکھ لے لیکن آپ کو خدا تعالیٰ پر ایسا یقین ہے کہ باوجود سب اسباب مخالف کے جمع ہو جانے کے آپ یہی فرماتے ہیں کہ یہ کیوں کر ہوسکتا ہے خدا تو ہمارے ساتھ ہے پھر وہ کیوں کر دیکھ سکتے ہیں؟ کیا کسی ماں نے ایسا بچہ جنا ہے جو اس یقین اور ایمان کو لے کر دنیا میں آیا ہو۔یہ جرات و بہادری کا سوال نہیں بلکہ تو گل کا سوال ہے خدا پر بھروسہ کا سوال ہے۔اگر جرأت ہی ہوتی تو آپ یہ جواب دیتے کہ خیر پکڑ لیں گے تو کیا ہو ا ہم موت سے نہیں ڈرتے۔مگر آپ کوئی معمولی جرنیل یا میدان جنگ کے بہادر سپاہی نہ تھے آپ خدا کے رسول تھے اس 65