سیرت النبی ؐ — Page 63
تھا آپ سے معافی مانگ کر واپس چلا گیا اور خدا نے اس کے دل پر ایسا رعب ڈالا کہ اس نے اپنی سلامتی اس میں سمجھی کہ خاموشی سے واپس چلا جائے بلکہ اس نے اور تعاقب کرنے والوں کو بھی واپس لوٹا دیا۔غار ثور کا ایک واقعہ:- جب رسول کریم صلی یہ تم کوحکم ہوا کہ آپ بھی مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ کو جائیں تو آپ اور حضرت ابوبکر ایک رات کو مکہ سے نکل کر جبل ثور کی طرف چلے گئے۔یہ پہاڑ مکہ سے کوئی چھ سات میل پر واقع ہے۔اس پہاڑ کی چوٹی پر ایک غار ہے جس میں دو تین آدمی اچھی طرح آرام کر سکتے ہیں اور بیٹھ تو اس سے زیادہ سکتے ہیں۔جب کفار نے دیکھا کہ آپ اپنے گھر میں موجود نہیں ہیں باوجود پہرہ کے خدا کے فضل سے دشمنوں کے شر سے صحیح و سالم نکل گئے ہیں اور دشمن باوجود کمال ہوشیاری اور احتیاط کے خائب و خاسر ہو گئے تو انہوں نے کوشش کی کہ تعاقب کر کے آپ کو گرفتار کر لیں اور اپنے غضب کی آگ آپ پر برسائیں اور فوڑا ادھر ادھر آدمی دوڑائے کچھ آدمی اپنے ساتھ ایک کھوجی لے کر چلے جس نے آپ کے قدموں کے نشانات کو معلوم کر کے جبل ثور کی طرف کا رخ کیا جب ٹور پر پہنچے تو اس نے بڑے زور سے اس بات کا اقرار کیا کہ یہ لوگ اس جگہ سے آگے نہیں گئے بلکہ پہاڑی پر موجود ہیں۔کھوجی عام طور سے ہوشیار ہوتے ہیں اور گورنمنٹ اور محکمہ پولیس والے ان سے بہت کچھ فائدہ اٹھاتے ہیں اور یہ طریق انسان کی دریافت کرنے کا ایک بہت پرانا طریق ہے خصوصا ان ممالک میں جہاں جرائم کی کثرت ہو اس طریق سے بہت کچھ کام لینا پڑتا ہے اس لئے غیر مہذب ممالک میں اور ایسے ممالک میں کہ جہاں کوئی باقاعدہ حکومت نہ ہو 63