سیرت النبی ؐ — Page 20
کہ حضرت خدیجہ آنحضرت سلیم کو اپنے ساتھ اپنے بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں اور انہیں کل حال سنایا انہوں نے سن کر کہا کہ یہ فرشتہ جو آپ پر نازل ہوا ہے یہ وہی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ پر نازل فرمایا تھا اور فرمایا کہ يَا لَيْتَنِي فِيهَا جَذَعَالَيَتَنِي اكُوْنَ حَيًّا اِذْيُخْرِجُكَ قَوْمَكَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَ مُخْرِجِيَ هُمْ ( بخاری جلد اول باب كيف كان بدء الوحى) یعنی اے کاش کہ میں اس وقت جو ان و توانا ہوں۔اے کاش کہ میں اس وقت زندہ ہوں جبکہ تجھے تیری قوم نکال دے گی رسول اللہ نے سنکر فرمایا کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟ اس گفتگو سے اور خصوصا رسول کریم سانیا ایتم کے اس قول سے کہ کیا مجھے میری قوم نکال دے گی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا اندر کیسا صاف تھا۔اور جب آپ نے ورقہ بن نوفل سے یہ بات سنی کہ آپ کو اہل مکہ نکال دیں گے تو آپ کو اس سے سخت حیرت ہوئی کیونکہ آپ اپنے نفس میں جانتے تھے کہ مجھ میں کچھ عیب نہیں۔اور اگر آپ ذرہ بھر بھی اپنی طبیعت میں تیزی پاتے تو اس قدر تعجب کا اظہار نہ فرماتے لیکن ورقہ کی بات سنکر اس پاک فطرت انسان کے منہ سے بے اختیار نکل گیا کہ ہیں کیا میری قوم مجھے نکال دے گی۔اسے کیا معلوم تھا کہ بعض خبیث الفطرت ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جو ہر نور کی مخالفت کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں۔وہ تو اس بات پر حیران تھا کہ اس پاک زندگی اور اس درد مند دل کے باوجود میری قوم مجھے کیوں کر نکال دے گی۔اخلاق حمیدہ کی تفصیل :- اخلاق پر ایک مجملاً بحث کرنے کے بعد اب میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے آنحضرت سی ایم کے اخلاق کا تفصیلاً بیان کرنا چاہتا ہوں لیکن پیشتر اس کے کہ میں فرڈ افرداً آپ کے اخلاق کا بیان کروں ان کی تقسیم کر دینا ضروری سمجھتا ہوں تا کہ اس تقسیم کو مد نظر رکھ کر 20