سیرت النبی ؐ — Page 19
حضرت خدیجہ نے فرمایا وہ یہ ہے كَلَّا وَ اللهِ مَا يُخْزِیكَ اللَّهُ أَبَدًا إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَحِمَ وَتَحْمِلْ الْكَلَّ وَتَكْسِبُ الْمَعْدُوْمَ وتَقْرِى الضَّيْفَ وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ ( بخاری باب كيف كان بدء الوحی) یعنی سنو جی میں خدا کی قسم کھا کر کہتی ہوں کہ خدا تجھے بھی ذلیل نہیں کرے گا کیونکہ تو رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کرتا ہے اور کمزوروں کا بوجھ اٹھاتا ہے اور تمام وہ نیک اخلاق جو دنیا سے معدوم ہو چکے ہیں ان پر عامل ہے۔مہمانوں کی خدمت کرتا ہے اور سچی مصیبتوں پر لوگوں کی مدد کرتا ہے۔اس کلام کے باقی حصوں پر تو اپنے وقت پر لکھوں گا سر دست حضرت خدیجہ کی گواہی کو پیش کرتا ہوں جو آپ نے قسم کھا کر دی ہے۔یعنی تسِبُ الْمَعْدُومَ کی گواہی کو کافی تھی لیکن اپنے خدا کی قسم کے ساتھ مؤکند کر کے بیان فرمایا ہے کہ رسول اللہ صلیم میں تمام اخلاق حسنہ پائے جاتے ہیں حتی کہ وہ اخلاق بھی جو اس وقت ملک میں کسی اور آدمی میں نہیں دیکھے جاتے تھے۔یہ گواہی کیسی زبردست اور کیسی صاف اور پھر بیوی کی گواہی اس معاملہ میں جیسا کہ میں پہلے لکھ آیا ہوں نہایت ہی معتبر ہے۔حضرت خدیجہ فرماتی ہیں کہ کل اخلاق حسنہ جو دنیا سے معدوم ہو چکے ہیں آپ میں پائے جاتے تھے۔خود رسول کریم ستی سیم کی گواہی اپنے اخلاق کی نسبت :- حضرت خدیجہ کی گواہی پیش کرنے کے بعد میں خود آنحضرت صلی سیستم کی گواہی اپنی نیک سیرتی کی نسبت پیش کرتا ہوں۔شاید اس پر بعض لوگ حیران ہوں کہ اپنی نسبت آپ گواہی کے کیا معنی ہوئے لیکن یہ گواہی رسول کریم صلی ہیں یا تم نے ایسی بے تکلفی سے اور بغیر پہلے غور کے دی ہے کہ موافق تو الگ رہے مخالف کو بھی اس کے ماننے سے انکار نہیں ہونا چاہئے۔اس حدیث میں جس میں حضرت خدیجہ کی گواہی کا ذکر ہے آگے چل کر لکھا ہے 19