سیرت النبی ؐ — Page 251
کے بڑھانے میں ایک زبر دست آلہ ہے اور ایثار کے ساتھ مل کر فساد کو بیخ و بن سے اکھیڑ دیتا ہے ورنہ جھوٹ بولنا انکسار نہیں کہلاتا جیسا کہ ان دنوں عام طور پر سمجھا جاتا ہے اور نہ انکسار اس کو کہتے ہیں کہ کوئی شخص ستی اور غفلت کی وجہ سے کام سے جی چرائے۔بعض لوگ جنہیں کام کی عادت نہیں ہوتی سستی سے ان کا پالا پڑا ہوا ہوتا ہے وہ انکسار کے پردہ میں اپنا پیچھا چھڑا نا چاہتے ہیں لیکن اس کا نام انکسار نہیں وہ غفلت اور ستی ہے منکسر المزاج وہی شخص ہے کہ وہ کام کی اہلیت رکھتے ہوئے پھر خدا تعالیٰ کے جلال پر نظر کرتے ہوئے اپنی کمزوری کا منظر ہولیکن جب اس کے کام سپرد ہو تو پوری ہمت سے اس کا م کو کرے جیسا کہ رسول کریم سال یا تم نے کیا کہ باوجود اس انکسار کے جب آپ کے سپر د اصلاح عالم کا کام کر دیا گیا تو وہی شخص جو میں پڑھنا نہیں جانتا کہ کر اپنی کمزوری کا اقرار کر رہا تھا۔رات اور دن اس تندہی سے اس کام کے بجالانے میں لگ گیا کہ دنیا دنگ ہو گئی اور کوئی انسان اس قدر کام کرنے والا نظر نہیں آتا جس قدر کہ آنحضرت سلی پریتم نے کیا۔پس آپ کا انکسار سچا انکسار تھا۔کیونکہ باوجو د لیاقت رکھنے کے آپ نے خدا کے جلال کا ایسا مطالعہ کیا کہ اپنی لیاقت کو بھلا دیا اور اللہ تعالیٰ کے نور کو اس طرح دیکھا کہ معلوم کر لیا کہ میری روشنی در حقیقت اس نور کا سایہ ہے۔غرض آپ کے اس جواب سے کہ میں پڑھنا نہیں جانتا صاف ثابت ہوتا ہے کہ آپ ہمیشہ سے انکسار میں کمال رکھتے تھے اور گوفرشتہ کا آپ کو بار بار چمٹا لینا ایک یہ معنی بھی رکھتا ہے کہ اس ذریعہ سے آپ کو اپنے کمالات پر واقف کیا جانا تھا لیکن میرے نزدیک تو اس کا ایک یہ بھی مطلب تھا کہ جب فرشتہ نے آپ کو اس بات کی خبر دی کہ دنیا کو خدا کا کلام سنانے پر آپ مہ اُمور کئے گئے ہیں تو اس نے دیکھا کہ بجائے اس کے یہ کہ شخص خوشی سے 251)