سیرت النبی ؐ — Page 250
ہے کہ آپ حضرت موسی سے شان میں افضل تھے کہ آپ نے اس امانت کے اٹھانے کے لئے کسی انسان پر نظر نہیں کی بلکہ صرف اپنی کمزوروی کا اقرار کر کے خدا تعالیٰ کے انتخاب پر صاد کیا۔غرض آپ کا نبوت کے ملنے سے بھی پہلے یہ انکسار کا نمونہ دکھا نا ثابت کرتا ہے کہ آپ کی طبیعت میں ہی انکسار داخل تھا۔اور نادان ہے وہ جو خیال کرے کہ آپ نے نبوت کے ساتھ اس رنگ کو اختیار کیا۔اس جگہ ایک اور بات بھی یا درکھنی چاہئے کہ انکسار جیسا کہ عام طور پر لوگوں کا خیال ہے اس کا نام نہیں کہ کوئی آدمی اپنے آپ کو لائق سمجھتے ہوئے کہے کہ میں تو یہ کام نہیں کر سکتا۔یہ تو جھوٹ ہے اور جھوٹ کبھی اچھی صفت نہیں ہوسکتی، انکسار در حقیقت ایثار کی ایک قسم ہے جو ایک تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ انکسار نام پاتی ہے اور منکسر لمزاج نہ اس شخص کو کہیں گے جو نالائق ہو کر اپنی نالائقی کا اقرار کرے اور نہ اسے کہیں گے جو اپنے آپ کو لائق سمجھ کر اپنے نالائق ہونے کا اعلان کرے بلکہ منکسر المزاج وہ شخص ہے جو لائق اور صاحب فضیلت ہو کر دوسروں کی خوبیوں پر لیاقت اور فضیلت کے مطالعہ میں ایسا مشغول ہو کہ اپنی لیاقت اور فضیلت اس کی نظروں سے پوشیدہ ہو جائے اور ہر موقعہ پر دوسروں کی لیاقت اور فضیلت اسکے سامنے آجائے اور یہ صفت اس لئے اچھی ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ کے حضور میں تو یہ ادب کا صحیح طریق ہے اور بندوں میں اس کے ذریعہ سے فسادمٹ جاتے ہیں کیونکہ تمام فساد تکبر یا عدم انکسار سے پیدا ہو تے ہیں تکبر جب لوگوں میں پھیل جائے تب تو بہت ہی فساد ہوگا کیونکہ ہر ایک شخص کہے گا میں دوسروں سے بڑا ہو جاؤں لیکن اگر تکبر نہ ہو اور انکسار بھی نہ ہو تب بھی فساد ہو جائے گا کیونکہ اکثر جھگڑے اسی وقت ہوتے ہیں جبکہ طرفین میں ہر ایک شخص اپنے حق پر اڑار ہے اگر ایک ان میں سے اپنے حق کو ترک کر دے تو پھر سب جھگڑے بند ہوجائیں۔پس انکسار دنیا کے امن وامان 250