سیرت النبی ؐ — Page 252
اچھل پڑے اور خود اس پیغام کو لے کر چل پڑے اور لوگوں کو فخر یہ سنائے کہ خدا تعالیٰ نے یہ کام میرے سپر د کیا ہے۔اس نے تو وہ رنگ انکسار اختیار کیا ہے جو کسی انسان نے اس سے پہلے اختیار نہ کیا تھا تو اس کا دل محبت کے جوش سے بھر گیا اور بے اختیار ہو کر اس نے آپ کو اپنے ساتھ چمٹا لیا جو اور محبت کی لہر کا ایک ظہور تھا جو اس کے دل میں پیدا ہوگئی تھی اور جب آپ کو گلے لگا کر اس نے چھوڑا اور پھر وہی پیغام دیا اور پھر وہی جواب سنا تو محبت کی آگ نے ایک اور شعلہ مارا اور پھر اس نے آپ کو گلے لگالیا اور اسی طرح تیسری دفعہ کیا اور تیسری دفعہ کے بعد آپ کے سامنے وحی الہی کے الفاظ پڑھے کہ اب تو آپ جو کچھ بھی کہیں یہ خدا کی امانت آپ کے سپر د ہوگئی ہے اور آپ نے بلا چوں و چرا اسے قبول کیا۔لیکن آپ کے انکسار کو دیکھو کہ اب بھی تسلی نہیں ہوئی اس قدر اصرار سے حکم ملتا ہے لیکن بھاگے بھاگے حضرت خدیجہ کے پاس جاتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ مجھے اپنی جان پر ڈر آتا ہے۔اے نبیوں کے سردار ! اے انسانی کمالات کے جامع ! اے بنی نوع انسان کے لئے ایک ہی رہنما! تجھ پر میری جان قربان ہو۔تو اب بھی اپنے کمالات سے آنکھیں بند کرتا ہے اور یہی خیال کرتا ہے کہ میں اس قابل کہاں جو اس وحدہ لا شریک کے پیغام کا اٹھانے والا بنوں۔فرشتہ تاکید پر تاکید کرتا ہے اور پیغام الہی آپ میتک پہنچا تا ہے لیکن باوجود اس کے آپ ابھی تک اپنے حسن سے آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں اور بار بار یہی فرماتے ہیں کہ میں اس قابل کہاں حتی کہ گھر آ کر اپنی غمگسار حضرت خدیجہ سے فرماتے ہیں کہ میں اپنی جان پر خائف ہوں۔چونکہ یہ فقرہ بھی اپنے اندر ایک حکمت رکھتا ہے اس لئے اس کے سمجھانے کے لئے بھی تشریح کی ضرورت ہے۔الہام انسان کو دوطرح ہوتے ہیں کبھی ترقی کے لئے کبھی حجت کے 252