سیرت النبی ؐ — Page 249
جانے لگا ہے میں تو اس لائق نہیں اور یہ جو کچھ آپ نے فرما یا بالکل درست اور بجا تھا۔اللہ تعالیٰ کے حضور میں یہی کلمہ کہنا بجا تھا اور آپ نے اس کے فرشتہ کو یہی جواب دیا کہ اس بادشاہ کی خدمت کے میں کہاں لائق تھا۔شاید کوئی شخص کہے کہ یہ تو جھوٹ تھا آپ تو لائق تھے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اعتراض نادانی کے باعث ہے جو لوگ جس قدر خدا تعالیٰ کے قریب ہوتے ہیں اسی قدر اس سے خائف ہوتے ہیں اور اس کے جلال سے ڈرتے ہیں۔بے شک رسول کریم سالی ایلیم سب سے زیادہ اس کام کے لائق تھے۔لیکن ان کا دل سب انسانوں سے زیادہ خدا تعالیٰ کے خوف سے پر تھا پس انہوں نے خدا تعالیٰ کے جلال کو دیکھتے ہوئے عذر کیا کہ میں تو اس کام کے لائق نہیں۔اگر آپ آپنے آپ کو سب سے لائق سمجھتے ہوئے ایسا کہتے تب بے شک آپ پر الزام آسکتا تھا بعد کے واقعات نے ثابت کر دیا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے جبروت اور جلال پر نظر کرتے ہوئے واقعہ میں اپنے آپ کو اس کی امانت کے اٹھانے کے قابل خیال نہ کرتے تھے اور یہ بات آپ کے درجہ کی بلندی پر دلالت کرتی ہے کہ آپ باوجود عظیم الشان طاقتوں کے مالک ہونے کے خدا تعالیٰ کے جلال پر ایسے فدا تھے کہ آپ نے اپنے نفس کی خوبیوں کو کبھی دیکھا ہی نہیں اور اسی کے جلال کے مطالعہ میں لگے رہے۔کیا اس سے بڑھ کر بھی انکسار کی کوئی اور مثال دنیا میں موجود ہے؟ موسی کی ایک مثال قرآن کریم سے معلوم ہوتی ہے لیکن آپ کے مقابلہ میں وہ بھی کچھ نہیں کیونکہ گو حضرت موسی نے اپنے آپ کو اس قابل نہ سمجھا اور نبوت کے بوجھ اٹھانے سے انکار کیا لیکن اپنے بھائی کی طرف اشارہ کیا۔پس انہوں نے اپنی دانست میں ایک آدمی کو اس قابل خیال کیا کہ وہ اس بوجھ کو اٹھا لے گا لیکن آنحضرت سال یا یہ تم نے اپنی نسبت عجیب پیرایہ میں عذر کیا اور کسی کو پیش نہیں کیا جو آپ کے عظیم قرب پر دلالت کرتا ہے اور ثابت ہوتا 249