سیرت النبی ؐ — Page 248
سامنے جبریل نے ایک تحریر رکھی تھی جو دیباج پرلکھی ہوئی تھی۔کیونکہ ایک تو یہ حدیث اس پائے کی نہیں جس پائے کی حدیث بخاری کی ہے پھر یہ مرسل حدیث ہے اس لئے اس روایت کے مقابلہ میں جو او پر نقل کی گئی ہے نہیں رکھی جاسکتی۔سوم خود عبید بن عمیر کی اپنی روایت میں اس کے خلاف ہے کیونکہ وہ بیان کرتے ہیں کہ جب جبریل نے آپ سے کہا کہ پڑھیں۔تو آپ نے فرمایا کہ میں کیا پڑھوں؟ اور یہ فقرہ کہ میں کیا پڑھوں صاف ثابت کرتا ہے کہ آپ کے سامنے کوئی تحریر نہ تھی اگر تحریر ہوتی تو آپ ، کیا پڑھوں ، کا جملہ کیونکر استعمال فرما سکتے تھے۔غرض حق یہی ہے کہ آنحضرت صلی للہ یہ تم سے اس فرشتہ نے کوئی تحریر پڑھنے کو نہیں کہا بلکہ یہی کہا کہ آپ کہیں ( یعنی جو کچھ میں کہوں ) اس کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ میں تو قراءت نہیں جانتا لیکن اب ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ جبکہ آپ سے صرف عربی کے بعض فقرات دہرانے کو کہا گیا تھا تو آپ نے کیوں فرمایا کہ میں پڑھنا نہیں جانتا حالانکہ یہ کام آپ آسانی سے کر سکتے تھے آپ کی مادری زبان عربی تھی اور آپ اس زبان میں کلام کیا کرتے تھے۔پھر آپ نے یہ کیوں فرمایا کہ میں پڑھنا نہیں جانتا اور نہ آپ معربی کے کلمات کے دہرانے سے عاجز تھے کہ کہا جائے کہ آپ نے اس بات سے بھی انکار کیا بلکہ اصل بات یہی ہے کہ آپ نے فرشتہ کو دیکھتے ہی خوب سمجھ لیا تھا کہ یہ کس غرض کے لئے آیا ہے کیونکہ قبل از وقت آپ کو رویائے صالحہ کے ذریعہ اس کام کے لئے تیار کر دیا گیا تھا۔اور پھر ایک علیحدہ جگہ میں یک لخت ایک شخص کا نمودار ہو نا صاف ظاہر کرتا تھا کہ یہ کوئی انسان نہیں بلکہ فرشتہ ہے پس آپ کے دل میں یہ خیال پیدا ہو گیا تھا کہ یہ کوئی فرشتہ ہے اور مجھے کوئی کام سپر د کر نے آیا ہے اور آپ نے خدا تعالیٰ کی عظمت کی طرف نگاہ کر کے اپنی جبیں نیاز خدا تعالیٰ کے آگے جھکادی اور عرض کیا کہ جو کچھ مجھے پڑھایا 248