سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 247 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 247

تو اس سے کیا مراد ہے۔آیا یہ کہ آپ تحریر نہیں پڑھ سکتے یا یہ کہ آپ کسی عبارت کو جو عربی زبان میں ہود ہرا بھی نہیں سکتے۔اگر یہ ثابت ہو کہ آپ کا مطلب یہ تھا کہ آپ تحریر نہیں پڑھ سکتے تب تو بات صاف ہے کیونکہ تاریخ سے ثابت ہے کہ آپ لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے لیکن یہ مطلب رسول کریم صلی ا ستم کا نہیں ہوسکتا کیونکہ صحیح احادیث سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا کہ آپ کے سامنے اس فرشتہ نے کوئی تحریر رکھی تھی اور کہا تھا کہ اسے پڑھو تا آپ جواب دیتے کہ میں پڑھنا نہیں جانتا بلکہ جو کچھ صحیح اور مرفوع احادیث سے ثابت ہوتا ہے وہ یہی ہے کہ ایک فرشتہ آپ کے سامنے آیا اور اس نے آکر آپ سے کہا کہ آپ پڑھیں اور کوئی تحریر آپ کے سامنے پیش نہیں کی۔چنانچہ بخاری کی جو حدیث او پر نقل کی گئی ہے اس سے بھی یہی ثابت ہے کہ اس فرشتہ نے آپ کے سامنے کوئی تحریر نہیں رکھی بلکہ صرف ہوشیار کرنے کے لئے کہا ہے کہ پڑھ ! جیسا کہ جب کسی شخص سے کوئی الفاظ کہلوانے ہوں تو کہلوانے والا عام طور پر کہ دیا کرتا ہے کہ کہو۔پس اس فرشتہ نے بھی یہی آپ سے کہا تھا کہ دہراؤ یعنی جو لفظ میں کہتا ہوں انکو دہراتے جاؤ۔چنانچہ تیسری دفعہ فرشتہ نے منہ سے ہی الفاظ کہے نہ کہ کوئی تحریر رکھی۔اگر پڑھوانا مد نظر ہوتا اور اس فرشتہ کا آپ کو گھونٹنا اس لئے ہوتا کہ آپ کو تحریر پڑھنا آجائے تو ایسا ہونا چاہئے تھا کہ وہ آخری دفعہ آپ کے سامنے تحریر رکھ دیتا اور آپ کو پہلے پڑھنا نہیں جانتے تھے لیکن معجزانہ طور پر پڑھنے لگ جاتے لیکن آخری دفعہ فرشتہ کا منہ سے الفاظ کہہ کر آپ کو دہرانے کے لئے کہنا صاف ثابت کرتا ہے کہ اس وقت آپ کے سامنے کوئی تحریر نہ رکھی گئی تھی بلکہ صرف زبانی آپ سے ایک عبارت دہرانے کو کہا گیا تھا اور یہ استدلال جو ہم نے کیا ہے اس کے خلاف عبید بن عمیر کی روایت نہیں پیش کی جاسکتی جس میں لکھا ہے کہ رسول کریم صلی یا یہ تم نے فرمایا کہ میرے 247