سیرت النبی ؐ — Page 246
جس وقت تیری تعلیم کا اعلان ہو گا اور لوگ مخالفت کریں گے ورنہ نبی تو آپ اسی دن سے ہو گئے تھے اور وحی قرآن نازل ہونی شروع ہو گئی تھی ) تو میں تیری بڑی مددکروں گا۔پھر کچھ ہی دونوں کے بعد ورقہ فوت ہو گئے اور وحی ایک عرصہ کے لئے بند ہوگئی۔ممکن ہے اس حدیث کے یہاں نقل کر نے پر بعض لوگوں کو تعجب ہوا ہو کہ اس حدیث کے اس جگہ نقل کرنے سے کیا مطلب ہے اور اس سے آنحضرت صلی یتیم کے انکسار کا کیا پتہ چلتا ہے لیکن جیسا کہ، میں انشاء اللہ، ابھی بتاؤں گا۔یہ حدیث آپ کی منکسرانہ طبیعت پر تیز روشنی ڈالتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انکسار سے آپ کا دل معمور تھا اور کسی زمانہ میں بھی آپ سے یہ خلق نیک جدا نہیں ہوا۔انکسار کے ساتھ کام کر نادلالت کرتا ہے کہ یہ صفت کس شان کے ساتھ آپ کے اندر تھی اور نہ بعض لوگ صرف ستی کی وجہ سے انکسار کرتے ہیں۔اس حدیث سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی ای ایم کے سامنے جو فرشتہ آیا اس نے آپ سے کہا کہ پڑھ اور آپ نے اس کے جواب میں کہا کہ میں پڑھنا نہیں جانتا۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ کا اس انکار سے کیا مطلب تھا آیا یہ کہ آپ تحریر پڑھنا نہیں جانتے یا یہ کہ عربی زبان کا دہرانہ بھی نہیں جانتے۔کیونکہ قراءت کا لفظ عربی زبان میں دو معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ایک معنے اسکے کسی تحریر کو پڑھنے کے ہیں اور دوسرے معنی کسی مقررہ عبارت کو اپنی زبان سے دہرانے کے ہیں چنانچہ جب کوئی شخص کسی کتاب کو پڑھے تو اس کی نسبت بھی کہیں گے کہ یقرا الکتاب اور جب وہ کسی عبارت کو دہرائے گا تو اسے بھی کہیں گے کہ یقر آ وہ پڑھتا ہے جیسا کہ قرآن کریم کو حفظ پڑھنا بھی قراءت کہلاتا ہے۔پس اب سوال یہ ہے کہ آیا رسول اللہ ایل پی ایم نے جو یہ فرمایا کہ میں پڑھنا نہیں جانتا 246