سیرت النبی ؐ — Page 245
آپ کا دل دھڑک رہا تھا وہاں آکر سے آپ سیدھے حضرت خدیجہ کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا کہ مجھے کپڑا اوڑھاؤ! اس پر آپ کے اوپر کپڑا ڈال دیا گیا اور آپ لیٹے رہے یہاں تک کہ خوف جاتا رہا۔پھر حضرت خدیجہ کو تمام قصہ سنایا اور فرمایا کہ میں تو اپنی جان پر ڈرتا ہوں ( یعنی مجھے خوف ہے کہ مجھ سے کیا معاملہ ہونے لگا ہے ) اس پر حضرت خدیجہ نے فرمایا کہ ہر گز نہیں۔خدا تجھے کبھی ذلیل نہیں کرے گا کیونکہ تو رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کرتا اور کمزوروں کا بوجھ اٹھاتا ہے اور تمام وہ نیک اخلاق جو دنیا سے معدوم ہو چکے ہیں ان پر عامل ہے اور مہمان کی اچھی طرح سے خاطر کرتا ہے اور کچی مصیبتوں میں لوگوں کی مدد کرتا ہے یہ کہہ کر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آنحضرت سالی تم کو ساتھ لیا اور ورقہ بن نوفل بن اسد بن عبدالعزیٰ جو حضرت خدیجہ کے چچا کے بیٹے یعنی چچا زاد بھائی تھے، ان کے پاس پہنچیں جو جاہلیت کے زمانہ میں مسیحی مذہب اختیار کر چکے تھے اور عبرانی میں انجیل کے بعض حصص، جن کی اللہ تعالیٰ ان کو توفیق دیتا لکھا کرتے تھے ( یعنی اپنی جوانی میں ) اور اس وقت وہ بوجہ بڑھاپے کے اندھے ہو چکے تھے۔حضرت خدیجہ نے ان سے کہا کہ اے میرے چچا کے بیٹے ! اپنے بھائی کے بیٹے کی بات سن۔ورقہ نے آنحضرت صلی یا پیام سے پوچھا کہ اے میرے بھائی کے بیٹے ! کیا بات ہے۔آپ نے جو کچھ گزرا تھا آپ کے سامنے دہرایا۔اس پر ورقہ نے کہا کہ یہ وہی فرشتہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ پر نازل فرمایا تھا۔اے کاش۔میں اس وقت جوان ہوتا۔اے کاش میں اس وقت زندہ ہوتا جب تیری قوم تجھے نکال دے گی اس پر رسول کریم صلی لا یتیم نے فرمایا کہ کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں! کوئی شخص اس تعلیم کے ساتھ نہیں آیا جس کے ساتھ تو آیا ہے مگر لوگوں نے اس سے دشمنی کی ہے اور اگر مجھے تیرا زمانہ ملا ( یعنی 245