سیرت النبی ؐ — Page 195
بجائے اس کے کہ آپ ناراض ہوتے یا خفگی کا اظہار کرتے آپ نے ایک ایسی لطیف طرز اختیار کی کہ حضرت علی غالباً اپنی زندگی کے آخری ایام تک اس کی حلاوت سے مزا اٹھاتے رہے ہوں گے اور انہوں نے جو لطف اٹھا یا ہو گا وہ تو انہیں کا حق تھا۔اب بھی آنحضرت سلام کے اس اظہار ناپسندیدگی کو معلوم کر کے ہر ایک بار یک بین نظر محو حیرت ہو جاتی ہے۔حضرت علی کرم اللہ وجہ فرماتے ہیں اَنَّ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَ فَاطِمَةَ بِنْتَ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَيْلَةً فَقَالَ : أَلَا تُصَلِّيَانِ فَقُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللَّهِ أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا، فَانْصَرَفَ حِيْنَ قُلْنَا ذَالِكَ وَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيَّ شَيْئًا، ثُمَّ سَمِعْتَهُ وَهُوَ مَوَلَّ يَضْرِبُ فَخِذَهُ وَهُوَ يَقُولُ: وَكَانَ الْإِنْسَانُ اَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلاً ( بخاری کتاب التهجد باب تحريض علی قیام اللیل) یعنی نبی کریم ساہنی الہی ہم ایک رات میرے اور فاطمتہ الزہرا کے پاس تشریف لائے جو رسول اللہ سی ایم کی صاحبزادی تھیں اور فر ما یا کہ کیا تم تہجد کی نماز نہیں پڑھا کرتے۔میں نے جواب دیا کہ یا رسول اللہ ہماری جانیں تو اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہیں جب وہ اٹھانا چاہے اٹھا دیتا ہے۔آپ اس بات کو سنکر لوٹ گئے اور مجھے کچھ نہیں کہا پھر میں نے آپ سے سنا اور آپ پیٹھ پھیر کر کھڑے ہوئے تھے اور آپ اپنی ران پر ہاتھ مار کر کہہ رہے ہیں کہ انسان تو اکثر باتوں میں بحث کرنے لگ پڑتا ہے۔اللہ اللہ کس لطیف طرز سے حضرت علی کو آپ نے سمجھایا کہ آپ کو یہ جواب نہیں دینا چاہئے تھا۔کوئی اور ہوتا تو اول تو بحث شروع کر دیتا کہ میری پوزیشن اور رتبہ کو دیکھو۔پھر اپنے جواب کو دیکھو کہ کیا تمہیں یہ حق پہنچتا تھا کہ اس طرح میری بات کو ڑ کر دو۔یہ نہیں تو کم سے کم بحث شروع کر دیتا کہ یہ تمہارا دعویٰ غلط ہے کہ انسان مجبور ہے اور اس کے تمام افعال اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہیں وہ جس طرح چاہے کرواتا ہے چاہے نماز کی تو فیق دے چاہے نہ (195)