سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 196 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 196

دے اور کہتا کہ جبر کا مسئلہ قرآن شریف کے خلاف ہے لیکن آپ نے ان دونوں طریق میں سے کوئی بھی اختیار نہ کیا اور نہ تو ان پر ناراض ہوئے نہ بحث کر کے حضرت علی کو ان کے قول کی غلطی پر آگاہ کیا بلکہ ایک طرف ہو کر ان کے اس جواب پر اس طرح اظہار حیرت کر دیا کہ انسان بھی عجیب ہے کہ ہر بات میں کوئی نہ کوئی پہلو اپنے موافق نکال ہی لیتا ہے اور بحث شروع کر دیتا ہے حقیقت میں آپ کا اتنا کہ دینا ایسے ایسے منافع اندر رکھتا تھا کہ جس کا عُشر عشیر کسی اور کی سو بحثوں سے نہیں پہنچ سکتا تھا۔اس حدیث سے ہمیں بہت سی باتیں معلوم ہوتی ہیں جن سے آنحضرت کے اخلاق کے مختلف پہلوؤں پر روشنی پڑتی ہے اور اسی جگہ ان کا ذکر کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔اول تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو دینداری کا کس قدر خیال تھا کہ رات کے وقت پھر کر اپنے قریبیوں کا خیال رکھتے تھے۔بہت لوگ ہوتے ہیں جو خود تو نیک ہوتے ہیں، لوگوں کو بھی نیکی کی تعلیم دیتے ہیں لیکن ان کے گھر کا حال خراب ہوتا ہے اور ان میں یہ مادہ نہیں ہوتا کہ اپنے گھر کے لوگوں کی بھی اصلاح کریں اور انہی لوگوں کی نسبت مثل مشہور ہے کہ چراغ تلے اندھیرا۔یعنی جس طرح چراغ اپنے آس پاس تمام اشیاء کو روشن کر دیتا ہے لیکن خود اس کے نیچے اندھیرا ہوتا ہے اسی طرح یہ لوگ دوسروں کو تو نصیحت کرتے پھرتے ہیں مگر اپنے گھر کی فکر نہیں کرتے کہ ہماری روشنی سے ہمارے اپنے گھر کے لوگ کیا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔مگر آنحضرت کو اس بات کا خیال معلوم ہوتا ہے کہ ان کے عزیز بھی اس نور سے منور ہوں جس سے وہ دنیا کو روشن کرنا چاہتے تھے اور اس کا آپ تعہد بھی کرتے تھے اور ان کے امتحان و تجر بہ میں لگے رہتے تھے، اور تربیت اعزاء ایک ایسا اعلیٰ درجہ کا جو ہر ہے جو اگر آپ میں نہ ہوتا تو آپ کے اخلاق میں ایک قیمتی چیز کی کمی رہ جاتی۔(196