سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 194 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 194

یاد دلائے بغیر ان سواریوں کو استعمال کریں۔اور یہ اس عظیم الشان فتح کا نشان تھا جو آپ کو اپنے اصحاب کے دلوں پر حاصل تھی۔حتمل :- انسان کے نیک خصال میں سے تحمل کی خصلت بھی اعلیٰ درجہ کی ہے کیونکہ تحمل سے بہت سے جھگڑوں فسادوں اور لڑائیوں کا قلع قمع ہو جاتا ہے۔بہت دفعہ انسان ایک بات سنکر بحث مباحثہ میں پڑ جاتا ہے اور بجائے فائدہ کرنے کے نقصان پہنچاتا ہے۔بعض لوگ تو اپنے خیال کے خلاف بات سنتے ہی کچھ ایسے دیوانہ ہو جاتے ہیں کہ حد اعتدال سے بڑھ کر گالیوں پر اتر آتے ہیں اور عظیم الشان فسادوں کے بانی ہو جاتے ہیں۔بعض لوگ اپنے منشا کے خلاف بات سنکر ایسی طول طویل بحثیں شروع کر دیتے ہیں کہ جن کا ختم ہونا محالات سے ہو جاتا ہے لیکن حقیقی مصلح وہی ہے جو اکثر اوقات تحمل سے کام لیتا ہے اور احتیاط کے ساتھ سمجھاتا ہے۔آجکل کے بادشاہ یا علماء یا گدی نشین اپنی حیثیت کا قیام ہی اسی میں دیکھتے ہیں کہ کوئی شخص ان کے خلاف بات نہ کرے اور مرضی کے خلاف بات دیکھ کر فوراً ناراض ہوجاتے ہیں اور تحمل سے کام نہیں لیتے ممکن نہیں کہ ان لوگوں کے مزاج کے خلاف کوئی شخص بات کہہ دے اور پھر بغیر کچھ سخت وست کلام سننے کے اس مجلس سے اٹھے مگر ہمارے آنحضرت سیلا ہی تم اس طرز کے نہ تھے۔اس موقع پر تحمل سے کام لیتے اور بجائے گالیاں دینے اور سختی کرنے کے ایسا نرمی کا طریق اختیار کرتے کہ دوسرا خود بخو د شرمندہ ہو جائے۔حضرت علی اپنا ایک واقعہ بیان فرماتے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک موقع پر جبکہ حضرت علی نے آپ کو ایسا جواب دیا جس میں بحث اور مقابلہ کا طرز پایا جاتا تھا تو 194