سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 148 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 148

اور دوسرے تمام امور کو اپنے ذہن سے نکال دیتا ہے اور ایک ہی طرف کا ہو رہتا ہے اور اس وجہ سے اکثر دیکھا گیا بہت سے لوگ حق و حکمت کی شاہراہ سے بھٹک کر کہیں کے کہیں نکل جاتے ہیں اور سچائی سے محروم ہو جاتے ہیں لیکن آنحضرت ایسے کامل انسان تھے کہ آپ مصائب سے گھبرا کر ایک ہی طرف متوجہ نہ ہو جاتے تھے بلکہ ہر وقت کل ضروریات پر آپ کی نظر رہتی تھی۔اور اس دعا سے ہی آپ کے اس کمال پر کافی روشنی پڑ جاتی ہے کیونکہ آپ صرف دنیا کے مصائب اور مشکلات کو مدنظر نہ رکھتے تھے بلکہ جب دنیاوی مشکلات کے حل کرنے کے لئے اپنے مولا سے فریاد کرتے تو ساتھ ہی مابعد الموت کی جو ضروریات ہیں ان کے لئے بھی امداد طلب کرتے۔اور جب قیامت کے دل ہلا دینے والے نظاروں کو اپنی آنکھوں کے سامنے لا کر خدا تعالیٰ کی نصرت کے لئے درخواست کرتے تو ساتھ ہی اس دنیا کی مشکلات کے دور کرنے کے لئے بھی جو مزرعہ آخرت ہے التجا کرتے اور کسی مشکل یا تکلیف کو حقیر نہ جانتے بلکہ نہایت احتیاط سے دنیاوی اور دینی ترقیوں کے لئے بغیر کسی ایک کی طرف سے غافل ہونے کے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے رہتے۔علاوہ ازیں اس دعا سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ اپنی دعاؤں کے الفاظ میں بھی نہایت احتیاط برتتے تھے کیونکہ آپ نے یہ دعا نہیں کی کہ یا الہی ہمیں دین اور دنیا دے بلکہ یہ دعا کی کہ یا الہبی ہمیں دین اور دنیا کی بہتری عنایت فرما کیونکہ بعض دفعہ دنیا توملتی ہے مگر وہ بجائے فائدے کے نقصان رساں ہو جاتی ہے۔اسی طرح دین بھی بعض لوگوں کو ملتا ہے مگر وہ اس کے ملنے کے باوجود کچھ سکھ نہیں پاتے اس لئے آپ نے دعا میں یہ الفاظ بڑھا دیئے کہ الہی دنیا کی بہتری ہمیں دے۔یعنی دنیا کے جس حصہ میں بہتری ہو ہمیں وہ ملے ایسا کوئی حصہ دنیا ہمیں نہ ملے جس کے ملنے سے بجائے فائدہ کے نقصان ہو اور آخرت میں بھی (148