سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 147 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 147

لیا تھا۔اے احمدی جماعت کے مخلصو ا تم بھی مؤمن نہیں ہو سکتے جب تک رسول کریم اور پھر مر امو ر وقت مسیح موعود سے ایسی ہی محبت نہ رکھو۔آنحضرت کی دعا:- صلى الله عليه جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں آنحضرت صلی لا یہ اہم ہر معاملہ میں نہایت حزم اور احتیاط سے کام لیتے تھے۔اب میں ایک حدیث نقل کر کے بتانا چاہتا ہوں کہ آپ دعا میں بھی نہایت محتاط تھے اور کبھی ایسی دعا نہ کرتے جو یکطرفہ ہو بلکہ ایسی ہی دعا کرتے جس میں تمام پہلو مد نظر رکھے جائیں جیسا کہ حضرت انس سے روایت ہے کہ كَانَ أَكْثَرُ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ( بخاری کتاب الدعوات باب قول النبي ﷺ انا في الدنيا حسنة) یعنی نبی کریم اکثر اوقات یہ دعا فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ ہمیں اس دنیا میں بھی نیکی اور بھلائی دے اور آخرت میں بھی نیکی اور بھلائی عنایت فرما اور عذاب نار سے ہمیں محفوظ رکھ۔اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں بھی آپ کی اس دعا کا ذکر فرمایا ہے۔فَمِنَ النَّاسِ مَن يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا وَمَا لَهُ فِي الْا خَرَةِ مِنْ خَلَاقٍ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةٌ وَ قِنَا عَذَابَ النَّارِ ) ( البقرہ:۲۰۲،۲۰۱) یعنی لوگوں میں سے کچھ تو ایسے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے یہی دعا کرتے ہیں کہ الہی اس دنیا کا مال ہمیں مل جائے اور ایسے لوگوں کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں۔اور کچھ ایسے ہیں جو کہتے ہیں اے رب اس دنیا کی بھلائی بھی ہمیں پہنچا اور آخرت کی نیکی بھی ہمیں پہنچا اور آگ کے عذاب سے ہمیں محفوظ رکھ۔اب اس دعا پر غور کرنے سے پتہ لگ سکتا ہے کہ آپ کس قدر احتیاط سے کام فرماتے تھے۔عام طور پر انسان کا قاعدہ ہے کہ جو مصیبت پڑی ہوئی ہو اسی طرف متوجہ ہو جاتا ہے (147)