سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 149 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 149

ہمیں بھلائی ملے نہ کہ کسی قسم کی برائی کے ہم حقدار ہوں۔کسی کی درخواست پر کام سپرد نہ فرماتے:۔لوگوں کا قاعدہ ہوتا ہے کہ امراء سے فائدہ اٹھانے کے لئے ہزاروں قسم کی تدابیر سے کام لیتے ہیں اور جب ان کے مزاج میں دخل پیدا ہوجاتا ہے تو اپنی منہ مانگی مرادیں پاتے ہیں اور جو کہتے ہیں وہ امراء مان لیتے ہیں۔مگر آنحضرت ایسے محتاط تھے کہ آپ کے دربار میں بالکل یہ بات نہ چل سکتی تھی۔آپ کبھی کسی کے کہنے میں نہ آتے تھے اور آپ کے حضور میں باتیں بنا کر اور آپ کو خوش کر کے یا خوشامد سے یا سفارش سے کام نہ چل سکتا تھا۔آپ کا طریق عمل یہ تھا کہ آپ تمام عہدوں پر ایسے ہی آدمیوں کو مقرر فرماتے تھے جن کو ان کے لائق سمجھتے تھے کیونکہ بصورت دیگر خطرہ ہوسکتا ہے کہ رعایا یا حکومت کو نقصان پہنچے یا خود عمال کا ہی دین خراب ہو۔بس کبھی کسی عہدہ پر سفارش یا درخواست سے کسی کا تقرر نہ فرماتے اور وہ نظارے جو دنیاوی بادشاہوں کے درباروں میں نظر آتے ہیں دربار نبوت میں بالکل معدوم تھے۔حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اقْبَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعِي رُجَلَانِ مِنَ الْأَشْعَرِينَ فَقُلْتُ مَا عَلِمْتُ أَنَّهُمَا يَطْلُبَانِ الْعَمَلَ فَقَالَ لَنْ أَوْ لَا تَسْتَعْمِلُ عَلَى عَمَلِنَا مَنْ اَرَادَهُ ) بخاری کتاب الاجارة باب استئجار الرجل الصالح) یعنی میں نبی کریم صلی الہ سلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میرے ساتھ اشعری قبیلہ کے دو اور آدمی بھی تھے ان دونوں نے آنحضرت صلی لیا کہ تم سے درخواست کی کہ انہیں کوئی ملازمت دی جائے۔اس پر میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ مجھے علم نہ تھا کہ یہ کوئی ملا زمت چاہتے ہیں۔آنحضرت نے ارشاد فرمایا کہ ہم اسے جو خود خواہش کرے اپنے عتمال میں ہرگز نہیں مقرر کریں گے یا فرمایا کہ نہیں مقرر کریں گے۔149