سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 121 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 121

سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے تو مجھے اطلاع ملی کہ آپ کے لئے اور حضرت ابوبکر کے لئے مکہ والوں نے انعام مقرر کیا ہے جو ایسے شخص کو دیا جائے گا جو آپ کو قتل کر دے یا قید کر لائے۔اس پر میں اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر بھاگا اور چاہا کہ جس طرح ہو آپکو گرفتار کرلوں تا اس انعام سے متمتع ہو کر اپنی قوم میں مالدار رئیس بن جاؤں۔جب میں آپ کے قریب پہنچا میرے گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور میں زمین پر گر پڑا۔اس پر میں نے اٹھ کر تیروں سے فال نکالنی چاہی کہ آیا یہ کام اچھا ہے یا برا کروں یا نہ کروں اور تیروں میں سے وہ جواب نکلا جسے میں نا پسند کرتا تھا یعنی مجھے آپ کا تعاقب نہیں کرنا چاہیئے۔مگر پھر بھی میں اپنے گھوڑے پر سوار ہو گیا اور آپ کے پیچھے بھاگا اور اس قدر نزدیک ہو گیا کہ آپ کی قراءت کی آواز آنے لگی اور میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ بالکل کسی طرف نہ دیکھتے تھے مگر حضرت ابوبکر بار بار ادھر ادھر دیکھتے جاتے تھے۔اس حدیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت سلی تم میں صفت و قار نہایت اعلیٰ درجہ پر تھی اور آپ خطر ناک سے خطر ناک اوقات میں بھی اپنے نفس کی بڑائی کو نہ چھوڑتے تھے۔اور خواہ آپ کو گھر میں بیٹھے ہوئے اپنے شاگردوں سے معاملہ کرنا پڑے جو دین کی جدت کی وجہ سے بار بار سوال کرنے پر مجبور تھے اور خواہ میدان جنگ میں دشمن کے ملک میں خطرناک دشمنوں کے مقابلہ میں آنا پڑے ہر دوصورتوں میں آپ اپنے وقار کو ہاتھ سے نہ دیتے۔اور جس وقت صابر سے صابر اور دلیر سے دلیر انسان چڑ چڑا ہٹ اور گھبراہٹ کا اظہار کرے اس وقت بھی آپ وقار پر قائم رہتے اور تعلیم اور جنگ دو ہی موقعہ ہوتے ہیں جہاں وقار کا امتحان ہوتا ہے اور جاننے والے جانتے ہیں کہ اسی وجہ سے استادوں کو اپنے اخلاق کے درست کرنے کی کیسی ضرورت رہتی ہے اور جو استاد اس بات سے غافل 121