سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 122 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 122

ہو جائے اور اپنی ذمہ داری کو نہ سمجھے بہت جلد طلباء اس کے اخلاق کو بگاڑ دیتے ہیں یہی حال میدان جنگ میں بہادر سپاہی کا ہوتا ہے جو باوجود جرأت اور بہادری کے بعض اوقات وقار کھو بیٹھتا ہے اور چھچھوراپن اور گھبراہٹ کا اظہار کر بیٹھتا ہے مگر وہ نیکوں کا نیک بہادروں کا بہادر ان سب عیوب سے پاک تھا۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلَّمْ جرات:- انسان کی اعلیٰ درجہ کی خصال میں سے ایک جرأت بھی ہے جرات کے بغیر انسان بہت سے نیک کاموں سے محروم رہ جاتا ہے۔جرات کے بغیر انسان دنیا میں ترقی نہیں کرسکتا۔جرات کے بغیر انسان اپنے ہم عصروں کی نظروں میں ذلیل وسبک رہتا ہے۔غرض کہ جرات، بہادری، دلیری اعلیٰ درجہ کی صفات میں سے ہیں اور جس انسان میں یہ خصلتیں ہوں وہ دوسروں کی نظر میں ذلیل نہیں ہوسکتا۔جب کہ آنحضرت سیلی سیستم جامع کمالات انسانی تھے اور ہر ایک بات میں جو انسان کی زندگی کو بلند اور اعلیٰ کرنے والی ہو دوسرے کے لئے نمونہ اور اسوہ حسنہ تھے اور جو عمل یا قول یا خوبی یا نیکی سے تعبیر کیا جاسکے اس کے آپ معلم تھے اور کل پاک جذبات کو ابھارنے کے لئے ان کا وجود خضر راہ تھا تو ضروری تھا کہ آپ اس صفت میں بھی خاتم الانبیاء واولیاء بلکہ خاتم الناس ہوں اور کوئی انسان اس حسن میں آپ پر فائق نہ ہو سکے چنانچہ آپ کی زندگی پر غور کرنے والے معلوم کر سکتے ہیں کہ آپ نے اپنی عمر میں بہادری اور جرات کے وہ اعلیٰ درجہ کے نمونے دکھائے ہیں کہ دنیا میں ان کی نظیر نہیں مل سکتی بلکہ تاریخیں بھی ان کی مثال پیش کرنے سے عاجز ہیں لیکن چونکہ میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ موجودہ صورت میں میں صرف وہ واقعات جو بخاری میں درج ہیں پیش کروں گا اس لئے اس جگہ صرف ایک دو 122