سیرت النبی ؐ — Page 120
محبت اور پیار سے جواب دیتے ہیں اور اس محبت کا ایسا اثر ہوتا ہے کہ وہ اپنے دلوں میں یقین کر لیتے ہیں کہ ہم جس قدر بھی سوال کرتے جائیں آپ ان سے اکتائیں گے نہیں۔کیونکہ جو حدیث میں او پر لکھ آیا ہوں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نہ صرف اس موقع پر آپ اعتراضات سے نہ گھبرائے بلکہ آپ کی یہ عادت تھی کہ آپ دین کے متعلق سوالات سے نہ گھبراتے تھے کیونکہ حضرت ابن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ میں نے جتنے سوال آپ سے کئے آپ نے ان کا جواب دیا۔اور پھر فرماتے ہیں کہ لَوِ اسْتَرَدْتُ لَزَادَ اگر میں اور سوال کرتا تو آپ پھر بھی جواب دیتے اس فقرہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو یقین تھا کہ آپ جس قدر سوالات بھی کرتے جائیں آنحضرت سلی سیستم اس پر ناراض نہ ہوں گے بلکہ ان کا جواب دیتے جائیں گے اور یہ نہیں ہوسکتا تھا جب تک رسول کریم سلام کی عام عادت یہ نہ ہو کہ آپ ہر قسم کے سوالات کا جواب دیتے جائیں۔دیگر احادیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ صحابہ کے سوالات پر خفا نہ ہوتے تھے بلکہ بڑی خندہ پیشانی سے ان کے جواب دیتے تھے اور یہ آپ کے وقار کے اعلیٰ درجہ پر شاہد ہے کیونکہ معمولی طبیعت کا آدمی بار بار سوال پر گھبرا جاتا ہے مگر آپ باوجود ایک ملک کے بادشاہ ہونے کے رحمت و شفقت کا ایسا اعلیٰ نمونہ دکھاتے رہے جو عام انسان تو کجا دیگر انبیاء بھی نہ دکھا سکے۔اس حدیث کے علاوہ ایک اور حدیث بھی ہے جس سے آپ کے وقار کا علم ہو سکتا ہے اور گو یہ حدیث میں پہلے بیان کر چکا ہوں کیونکہ اس سے آپ کے یقین اور ایمان پر بھی روشنی پڑتی ہے لیکن چونکہ اس حدیث سے آپ کے وقار کا حال بھی کھلتا ہے اس لئے اس جگہ بھی بیان کر دینا ضروری معلوم ہوتا ہے۔سراقہ بن جعشم کہتا ہے کہ جب رسول کریم مکہ (120