سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 96 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 96

آتش پرستان ایران میں جلوہ نما ہوا یا وادی کنعان میں نور افشاں ہوا یہ بات سب میں پائی جاتی ہے کہ وہ شرک کو بیخ و بن سے اکھیڑنے کے درپے رہے اور ان کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد یہی تھا کہ خدا تعالیٰ کو ایک سمجھا جائے اور اسکی ذات یا صفات یا اسماء میں کسی کو اس کا شریک نہ سمجھا جائے نہ بنایا جائے وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ (الانبیاء آیت ۲۶) اور ہم نے نہیں بھیجا تجھ سے پہلے کوئی رسول مگر اس کی طرف وحی کی کہ کوئی معبود نہیں مگر اللہ پس میری عبادت کرو۔يُنزِلُ الْمَلِئِكَةِ بِالرُّوحِ مِنْ أَمْرِهِ عَلَى مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ أَنْ أَنْذِرُوا أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاتَّقُونِ (انحل آیت: ۳) اللہ تعالیٰ اپنے کلام کے ساتھ اپنے حکم سے فرشتوں کو اپنے بندوں میں سے جس پر پسند کرتا ہے اتارتا ہے لوگوں کو ڈراؤ کہ سوائے میرے کوئی معبود نہیں پس میرا تقوی اختیار کرو۔ان آیات کی بناء پر ہم ایمان لائے ہیں کہ سب انبیاء کا مشترکہ مشن اشاعت توحید اور تحریب شرک تھا مگر بڑے سے بڑے نبیوں اور مرسلین کی زندگی کا رسول کریم کی زندگی سے مقابلہ کر کے دیکھ لو جوفکر اور فہم آپ کو شرک کی بیجگنی کا تھا اس کی نظیر اور کہیں نہیں ملتی حضرت موسیٰ نے فرعون کو ایک خدا کی پرستش کی تبلیغ کی۔حضرت مسیح ناصری نے ایک سائل کو کہا کہ سب سے بڑا حکم یہ ہے کہ تو اس خدا کو جو آسمان پر ہے اپنے سچے دل اور سچی جان سے پیار کر۔حضرت ابراہیمؑ نے اپنی قوم کے بتوں کو توڑ کر ان پر شرک کے عقیدہ کا بطلان ثابت کیا۔حضرت نوح نے بھی اپنی قوم کو واحد خدا کی پرستش کی طرف بلایا لیکن ہمارے سردار و آقا ہادی برحق صلی لا الہ امام نے جس طرح شرک مٹانے کے لئے جدو جہد کی ہے اس کی مثال اور کسی نبی کی ذات میں نہیں ملتی۔بے شک دیگر انبیاء نے اپنی عمر کا ایک حصہ شرک 96