سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 97 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 97

کے مٹانے پر خرچ کیا مگر جو دھن اس مرض کو مٹانے کی خاتم النبین سالی یا پیام کولگی ہوئی تھی وہ اور کسی کو نہ تھی۔آپ نے اپنے دعوئی کے بعد ایک ہی کام کو مدنظر رکھا کہ ایک خدا کی پرستش کروائی جائے۔تمام اہل عرب جو شرک میں ڈوبے ہوئے تھے آپ کے مخالف ہو گئے اور یہاں تک آپ سے درخواست کی کہ جس طرح ہو آپ ہمارے معبودوں کی تردید کو جانے دیں اور ہم آپ سے وعدہ کرتے ہیں کہ آپ جو مطالبہ بھی پیش کریں گے ہم اسے قبول کریں گے حتی کی اگر آپ چاہیں تو ہم آپ کو اپنا بادشاہ بھی بنالیں گے اور ایسا بادشاہ کہ جس کے مشورہ کے بغیر ہم کوئی کام نہ کریں گے۔مگر باوجود اس تحریص و ترغیب کے اور باوجود طرح طرح کے ظلم و ستم کے جو آپ پر اور آپ کی امت پر توڑے جاتے تھے آپ نے ایک لمحہ اور ایک سیکنڈ کے لئے بھی یہ برداشت نہ کیا کہ خدا تعالیٰ کی وحدت کے بیان میں سستی کریں بلکہ آپ نے ترغیب و تحریص دینے والوں کو یہی جواب دیا کہ اگر سورج کو میرے دائیں اور چاند کو میرے بائیں لا کھڑا کر وتب بھی میں خدا تعالیٰ کی وحدت کا بیان و اقرار ترک نہ کروں گا جو تکالیف لوگوں کی طرف سے شرک کی تردید کی وجہ سے آپ کو پہنچیں ویسی اور کسی نبی کو نہیں پہنچیں۔اور جس طرح آپ کو اور آپ کے متبعین کو خدا تعالیٰ کے ایک مانے پر ستایا اور دکھ دیا گیا ہے اس طرح اور کسی کو تکلیف نہیں دی گئی۔مگر پھر بھی آپ اپنے کام میں بجائے ست و غافل ہونے کے روز بروز زیادہ سے زیادہ مشغول ہو تے گئے۔حتی کہ بعض صحابہ قتل کئے گئے۔آپ کو وطن چھوڑنا پڑا۔رشتہ دار چھوڑ نے پڑے۔زخمی ہوئے۔ان تمام تکالیف کے بعد آپ اپنے مخالفین کو بھی جواب دیتے کہ اَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِیکَ لَہ پہلے انبیاء نے اپنی اپنی قوم سے مقابلہ کیا اور خوب کیا لیکن ہمارے آنحضرت سالی تم نے ایک قوم سے نہیں دو قوموں سے نہیں بلکہ اس وقت 97