سیرت النبی ؐ — Page 215
کر دنیا کا کوئی انسان نیک اخلاق کا اعلیٰ اور قابل تقلید نمونہ نہیں تھا اس لئے ذیل میں ہم صبر کے متعلق آپ کی زندگی کا ایک واقعہ بتاتے ہیں جس سے معلوم ہو جائے گا کہ آپ اس صفت سے کہاں تک متصف تھے۔بچپن میں اول والدہ اور پھر دادا کے فوت ہو جانے سے والد پیدائش سے بھی پہلے فوت ہو چکے تھے ) جو صدمات آپ کو پہنچے تھے۔ان میں آپ نے جس صبر کا اظہار کیا اور پھر دعویٰ نبوت کے بعد جو تکالیف کفار سے آپ کو پہنچیں اس کو جس صبر و استقلال سے آپ نے برداشت کیا اور یکے بعد دیگرے انہی مصائب کے زمانہ میں آپ کے نہایت مہربان چا اور وفاداری میں بے نظیر بیوی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات اور اپنے پیارے متبعین کی مکہ سے ہجرت کر جانے پر جس صبر کا نمونہ آپ نے دکھایا تھا وہ ایک ایسا وسیع مضمون ہے کہ قلت گنجائش ہم کو ہرگز اس کی اجازت نہیں دیتی کہ ہم ان مضامین کو یہاں شروع کریں اس لئے ہم صرف ایک چھوٹے سے واقعہ کے بیان کرنے پر جو بخاری شریف میں مذکور ہے کفایت کرتے ہیں۔جیسا کہ سیرۃ النبی کے ابتدا سے مطالعہ کرنے والے اصحاب نے دیکھا ہوگا میں نے اس بات کا التزام کیا ہے کہ اس سیرۃ میں صرف واقعات سے آنحضرت صلی السلام کے اخلاق کی برتری دکھائی ہے۔اور آپ کی تعلیم کو کبھی بھی پیش نہیں کیا تا کہ کوئی شخص یہ نہ کہہ دے کہ ممکن ہے آپ لوگوں کو تو یہ کہتے ہوں اور خود نہ کرتے ہوں۔نعوذ باللہ من ذلک۔پس اس جگہ بھی میں آپ کی اس تعلیم کو پیش نہیں کرتا جو آپ نے صبر کی نسبت اپنے اتباع کو دی ہے اور جس میں کرب و گھبراہٹ اور نا امیدی کے اظہار سے منع کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی قضاء پر رضا کا حکم دیا ہے بلکہ صرف آپ کا عمل پیش کرتا ہوں۔عَنْ أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَرْسَلَتِ ابْنَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ إِنَّ ابْنَالَهَا 215