سیرت النبی ؐ — Page 214
دکھ کے وقت ہوتا ہے ورنہ دین کے معاملہ میں بناوٹی صلح اور جھوٹ ملاپ ایک بے غیرتی ہے اور کمی ایمان اور حرص دنیاوی کا ثبوت ہے۔طہارۃ النفس صبر : - صبر عربی زبان میں روکنے کو کہتے ہیں اور استعمال میں یہ لفظ تین معنوں میں آتا ہے۔کسی شخص کا اپنے آپ کو اچھی باتوں پر قائم رکھنا۔بُری باتوں سے اپنے آپ کو روکنا اور مصیبت اور دکھ کے وقت جزع و فزع سے پر ہیز کرنا اور تکلیف کے ایسے اظہار سے جس میں گھبراہٹ اور نا امیدی پائی جائے اجتناب کرنا۔اُردو زبان میں یا دوسری زبانوں میں یہ لفظ ایسا وسیع نہیں ہے بلکہ اسے ایک خاص محدود معنوں میں استعمال کرتے ہیں اور صرف تیسرے اور آخری معنوں کیلئے اس لفظ کو مخصوص کر دیا گیا ہے یعنی مصیبت اور رنج میں اپنے نفس کو جزع و فزع اور نا امیدی اور کرب کے اظہار سے روک دینے کے معنوں میں۔چونکہ اُردو میں اس کا استعمال انہیں معنوں میں ہے اس لئے ہم نے بھی اس لفظ کو اسی معنی میں استعمال کیا ہے اور اس ہیڈنگ کے نیچے ہماری غرض آنحضرت سلی یا یتیم کی ایسی صفت پر روشنی ڈالنا ہے جس معنی میں کہ یہ لفظ اُردو میں استعمال ہوتا ہے اس میں تو کوئی شک نہیں کہ یہ ایک نہایت اعلیٰ درجہ کی صفت ہے اور دنیا کی تمام اقوام فطرتا اس صفت کی خوبی کی قائل ہیں گو بد قسمتی سے ہندوستان اس کے خلاف نظر آتا ہے کہ مردوں پر سالہا سال تک ماتم کیا جاتا ہے اور ایسی بے صبری کی حرکات کی جاتی ہیں اور کرب کی علامات ظاہر کی جاتی ہیں کہ دیکھنے والوں کو بھی تعجب آتا ہے۔غرضیکہ فطرتا کل اقوام عالم نے صبر کو نہایت اعلیٰ صفت تسلیم کیا ہے اور ہر قوم میں صابر نہایت قابل قدر خیال کیا جاتا ہے چونکہ آنحضرت سالہ سلم کی نسبت ہمارا دعویٰ ہے کہ آپ تمام صفات حسنہ کا مجموعہ تھے۔اور آپ سے بڑھ 214