سیرت النبی ؐ — Page 216
قُبِضَ فَاتِنَا فَأَرْسَلَ يُقْرِئُ السَّلَامَ وَيَقُولُ إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَى وَكُلُّ شَيْ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُّسَمًّى فَلْتَصْبِرُ وَلْتَحْتَسِبْ فَاَرْسَلَتْ إِلَيْهِ تُقْسِمُ عَلَيْهِ لَيَأْتِيَنَّهَا فَقَامَ وَمَعَهُ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَ أَبَيُّ بْنُ كَعْبٍ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَرِجَالُ فَرَفِعَ إِلى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّبِيُّ وَنَفْسَهُ تَنَقَعْقَعُ كَأَنَّهَا شَنَّ فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ فَقَالَ سَعْدْ يَارَسُوْلَ اللهِ مَا هَذَا قَالَ هَذِهِ رَحْمَةً جَعَلَهَا اللَّهُ فِي قُلُوْبِ عِبَادِهِ وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرَّحَمَاءَ (بخاری کتاب الجنائز باب قول النبي يعذب الميت ببعض بكاء اهله عليه ) اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ کی ایک بیٹی نے آپ کو کہلا بھیجا کہ میرا ایک بچہ فوت ہو گیا ہے آپ تشریف لائیں۔(فوت ہو گیا سے یہ مراد تھا کہ نزع کی حالت میں ہے کیونکہ وہ اس وقت دم تو ڑ رہا تھا ) پس آپ نے جواب اس طرح کہلا بھیجا کہ پہلے میری طرف سے السلام علیکم کہنا اور پھر کہنا کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ لے لے وہ بھی اسی کا ہے اور جود یوے وہ بھی اسی کا ہے اور ہر چیز کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور ایک مقررہ مدت ہے پس چاہئے کہ تم صبر کرو اور اللہ تعالیٰ سے ثواب کی امید وارر ہو۔اس پر آپ نے ( حضرت کی صاحبزادی نے ) پھر کہلا بھیجا کہ آپ کو خدا کی قسم آپ ضرور میرے پاس تشریف لائیں پس آپ کھڑے ہو گئے اور آپ کے ساتھ سعد بن عبادہ اور معاذ بن جبل اور ابی بن کعب اور زید بن ثابت اور کچھ اور لوگ تھے جب آپ وہاں پہنچے تو آپ کے پاس وہ بچہ پیش کیا گیا اور اس کی جان سخت اضطراب میں تھی اور اس طرح ہلتا تھا جیسے مشک۔اس کی تکلیف کو دیکھ کر آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے جس پر سعد بن عبادہ نے کہا یا رسول اللہ یہ کیا ؟ آپ نے جواب دیا کہ یہ رحمت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں میں پیدا کیا ہے اور سوائے اس کے نہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے رحیم بندوں پر ہی رحم کرتا ہے۔یہ واقعہ اپنے اندر جو ہدا یتیں رکھتا ہے وہ تو اس کے پڑھتے ہی ظاہر ہوگئی ہونگی پھر بھی مزید تشریح کے لئے میں بتا دیتا ہوں کہ اس واقعہ نے آپ کی صفت صبر کے دو پہلوؤں پر 216