سیرت النبی ؐ — Page 126
وقت جرات سے اس کا مقابلہ کرتے تو وہ اور بات ہوتی اور یہ اور بات تھی کہ آپ رات کے وقت تن تنہا بغیر کسی محافظ دستہ کے دشمن کی خبر لینے کو نکل کھڑے ہوئے۔اگر آپ نہ جاتے تو آپ مجبور نہ تھے۔ایسے وقت میں باہر نکلنا افسروں کا کام نہیں ہوتا۔صحابہ آپ خبر لاتے اور اگر جانا ہی تھا تو آپ دوسروں کا انتظار کر سکتے تھے مگر وہ قوی دل جس کے مقابلہ میں شیر کا دل بھی کوئی حقیقت نہیں رکھتا اس بات کی کیا پرواہ کرتا تھا۔شور کے سنتے ہی گھوڑے پر سوار ہوکر خبر لانے کو چل دیئے اور ذرا بھی کسی قسم کا تر ڈ دیا فکر نہیں کیا۔دوسرا امر جو اس واقعہ کوممتاز کر دیتا ہے یہ ہے کہ آپ نے ایسے وقت میں ایسا گھوڑا لیا جس پر سواری کے آپ عادی نہ تھے حالانکہ ہر ایک گھوڑے پر سوار ہونا ہر ایک آدمی کا کام نہیں ہوتا۔ایسے خطرہ کے وقت ایک ایسے تیز گھوڑے کو لے کر چلے جانا جو اپنی سختی میں مشہور تھا یہ بھی آپ کی خاص دلیری پر دلالت کرتا ہے۔تیسرا امر جو اس واقعہ کو عام جرات کے کارناموں سے ممتاز کرتا ہے وہ آپ کی حیثیت ہے۔اگر کوئی معمولی سپاہی کام کرے تو وہ بھی تعریف کے قابل تو ہوگا مگر ایسا نہیں ہوسکتا جیسا کہ افسر و بادشاہ کا فعل۔کیونکہ اس سپاہی کو وہ خطرات نہیں جو باشاہ کو ہیں۔اول تو سپاہی کو مارنے یا گرفتار کرنے کی ایسی کوشش نہیں کی جاتی جتنی بادشاہ یا امیر کے گرفتار کرنے یا مارنے کی کوشش کی جاتی ہے کیونکہ اس کے مارنے یا قید کر لینے سے فیصلہ ہی ہو جا تا ہے۔دوسرے سپاہی اگر مارا جائے تو چنداں نقصان نہیں بادشاہ کی موت ملک کی تباہی کا باعث ہوتی ہے۔پس باوجود ایک بادشاہ کی حیثیت رکھنے کے آپ کا اس وقت دشمن کی تلاش میں جانا ایک ایسا ممتاز فعل ہے جس کی نظیر نہیں مل سکتی۔126