سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 125 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 125

دو گز تک اس کا مقابلہ کیا۔حالانکہ مرغی لڑنے والے جانوروں میں سے نہیں ہے۔مرغی تو خیر پھر بھی بڑا جانور ہے چڑیا تک اپنے سے کئی کئی گنے جانوروں کے مقابلہ کے لئے تیار ہو جاتی ہے مگر یہ اسی وقت ہوتا ہے جب وہ دیکھ لے کہ اب کوئی مفر نہیں اور میری یا میرے بچوں کی خیر نہیں۔جب جانوروں میں اس قدر عقل ہے کہ وہ جب مصیبت اور بلا میں گھر جاتے ہیں اور سمجھ لیتے ہیں کہ اب سوائے موت کے اور کوئی صورت نہیں تو وہ لڑنے مرنے پر تیار ہو جاتے ہیں اور حتی الوسع دشمن کا مقابلہ کرتے ہیں تو انسان جو اشرف المخلوقات ہے وہ اس صفت سے کب محروم رہ سکتا ہے چنانچہ دیکھا گیا ہے کہ بعض انسان جو معمولی اوقات میں نہایت بزدل اور کمزور ثابت ہوئے تھے جب کسی ایسی مصیبت میں پھنس گئے کہ اس سے نکلنا ان کی عقل میں محالات سے تھا تو انہوں نے اپنے دشمنوں کا ایسی سختی سے مقابلہ کیا کہ ان پر غالب آگئے اور جیت گئے اور ایسی جرات دکھائی کہ دوسرے مواقع میں بڑے بڑے دلیروں سے بھی نہ ظاہر ہوتی تھی۔پس ایک جرات وہ ہوتی ہے جو انقطاع اسباب کے وقت ظاہر ہوتی ہے اور بزدل کو بہادر اور ضعیف کو توانا اور ڈرپوک کو دلیر بنا دیتی ہے مگر یہ کوئی اعلیٰ درجہ کی صفت نہیں کیونکہ اس میں چھوٹے بڑے، ادنی اور اعلیٰ سب شریک ہیں قابل تعریف جرات وہ ہے جو ایسے اوقات میں ظاہر ہو کہ اسباب کا انقطاع نہ ہوا ہو۔بہت کچھ امید میں ہوں۔بھاگنے اور بچنے کے راستے کھلے ہوں یعنی انسان اپنی مرضی سے جان بوجھ کر کسی خطرہ کی جگہ میں چلا جائے نہ یہ کہ اتفاقاً کوئی مصیبت سر پر آپڑی تو اس پر صبر کر کے بیٹھ رہے۔اب دیکھنا چاہئے کہ رسول کریم ﷺ سے جو اس وقت جرات کا اظہار ہوا ہے تو یہ جرات دوسری قسم کی ہے اگر آپ اتفاقا کہیں جنگل میں دشمن کے نرغہ میں آجاتے اور اس (125)