سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 89
سیرت المہدی 89 حصہ چہارم بزرگان کے نام بھجوادیں۔اس کے بعد میں پٹیالہ آکر اپنے والد صاحب سے ملا۔والد صاحب نے مضمون کی تعریف کی اور اُن خیالات سے اتفاق کرتے ہوئے فرمایا کہ اس مضمون کے مطابق تم اپنے وقت پر عمل کر لینا۔میں نے تو صرف یہی ایک شادی کرنی ہے۔میں تو اسی طرح کروں گا جیسا میرا دل چاہتا ہے۔تم کو وہ باتیں پسند ہوں یا نہ ہوں۔اس کا جواب خاموش رہنے کے سوا اور میرے پاس کیا تھا۔آخر میں نے ایک اہل حدیث مولوی سے جن کے ہمارے خاندان سے بہت تعلقات تھے اور خاکسار پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے۔اپنی یہ مشکل پیش کی۔انہوں نے سن کر میرے والد صاحب کی طبیعت سے واقف ہونے کی وجہ سے اُن کو تو کچھ کہنے کی جرات نہ کی بلکہ مجھے بڑی سختی سے تلقین کی کہ اگر تمہارے والد صاحب ان خلاف شرع رسومات کے ادا کرنے سے نہ رکیں تو تم شادی کرانے سے انکار کر دو۔چونکہ میں اپنے والد صاحب کی طبیعت سے واقف تھا اور میرا کوئی دوسرا بہن بھائی بھی نہ تھا۔اس لئے میں نے خیال کیا کہ ایسا جواب اُن کو سخت ناگوار معلوم ہوگا اور میرے اُن کے تعلقات ہمیشہ کے لئے خراب ہو کر خانگی زندگی کے لئے تباہ کن ہوں گے۔اس لئے ان حالات میں میں سخت پریشانی اور تردد میں تھا کہ انہی دنوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام پٹیالہ تشریف لے آئے۔ایام قیام پٹیالہ میں حضرت مولوی نورالدین صاحب اور مولوی عبدالکریم صاحب نماز عشاء کے بعد شب باش ہونے کے لئے ہمارے مکان پر تشریف لاتے اور صبح کی نماز کے بعد پھر حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہو جاتے۔ایک دن موقعہ پا کر میں نے اپنی مشکل کو حضرت مولوی نورالدین صاحب کی خدمت میں عرض کیا۔حضرت مولوی صاحب نے اس داستان کو بڑے غور سے سنا اور فرمایا کہ چونکہ حضرت صاحب تشریف فرما ہیں۔اس لئے اس معاملہ کو حضور کے پیش کر دو۔میں نے عرض کیا کہ لوگوں کی ہر وقت آمد و رفت اور حضرت صاحب کی مصروفیت کے سبب شاید حضرت صاحب سے عرض کرنے کا موقعہ نہ ملے۔مولوی صاحب نے فرمایا۔موقعہ نکالنے کی ہم کوشش کریں گے۔خاکسار تو رخصت نہ ہونے کے سبب ایک روز قبل ہی راجپورہ اپنی جائے ملازمت پر چلا گیا۔حضرت صاحب اُس سے ایک روز بعد یا دوسرے روز بغرض وا پسی را جپورہ صبح آٹھ بجے والی گاڑی سے پہنچے اور کھانے وغیرہ سے فارغ ہو کر جب ٹرین پر سوار ہونے کے لئے پلیٹ فارم راجپورہ پر تشریف لائے تو