سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 90 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 90

سیرت المہدی 90 حصہ چہارم مولوی صاحب نے خاکسار کو قریب طلب فرما کر یہ سارا واقعہ حضور کے گوش گزار کر دیا۔حضور نے تمام حالات سن کر خاکسار سے دریافت کیا کہ کیا آپ کے والد صاحب کو یہ علم ہے کہ آپ کو ایسی رسوم جو کہ خلاف شرع ہیں دل سے پسند نہیں۔میں نے عرض کیا کہ میں نے اُن سے زبانی عرض کرنے کے علاوہ ایک مدلل مضمون ان رسومات کے خلاف لکھ کر ایک اخبار میں اپنے نام سے شائع کرا کر اس کی کا پیاں اپنے والد صاحب کے پاس پہنچا ئیں۔مگر وہ مضمون کو پسند کرنے اور اس سے متفق ہونے کے باوجود عملاً اس کے خلاف اور اپنی مرضی کے موافق کرنے پر آمادہ ہیں۔اس پر حضور نے فرمایا کہ اگر تم اُن اہل حدیث مولوی صاحب کے کہنے کے موافق شادی سے انکار کر دو تو اس کا کیا نتیجہ ہوگا۔میں نے عرض کیا کہ ہمیشہ کے لئے میرا اُن سے انقطاع انجام ہوگا۔اس کے بعد فرمایا۔آخر نکاح وغیرہ کی رسم تو اسلامی شریعت کے مطابق ہی ہوگی۔خاکسار کے اثبات پر جواب عرض کرتے ہوئے فرمایا کہ جو رسوم شرع اور سنت کے موافق ہیں اُن کو تم اپنی طرف سے سمجھو اور جو خلاف شرع امور ہیں اُن کو اُن کی مرضی پر چھوڑ دو۔دل سے نا پسند کرنے کے با وجود کچھ تعرض نہ کرو۔اس طرح یہ مرحلہ بغیر فساد اور نزاع کے گزر جائے گا۔پھر مولوی صاحب کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا۔میرے نزدیک کسی لڑکے کو کسی خلاف شرع امر میں باپ کو منع کرنے کا اس سے زیادہ حق نہیں کہ وہ اس امر کا خلاف شرع ہونا اور اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کر دے سختی سے روکنے یا جبر کرنے کا کوئی حق نہیں۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے والدین کے سامنے ادب کے ساتھ اپنا شانہ جھکانے کا اور اُن کے آگے اُف تک نہ کرنے کا حکم فرمایا ہے۔اتنے میں گاڑی آگئی۔خاکسار نے حضرت صاحب سے مصافحہ کیا اور نیچے اُتر کر حضرت مولوی صاحب سے جب مصافحہ کیا تو مولوی صاحب نے فرمایا! کہ حضرت صاحب کے فتویٰ نے آپ کی مشکل کا حل کر دیا۔میں نے اسی لئے کہا تھا کہ حضرت صاحب سے عرض کرنا چاہئے۔دراصل ہم مولوی صاحبان کی نظریں اُن گہرائیوں تک نہیں جاتیں جہاں حضرت صاحب کا نقطہ نگاہ ہوتا ہے۔چنانچہ یہ معاملہ بلا مخالفت گزر گیا۔1116 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام لدھیانہ میں تھے تو وہاں ہیضہ بہت پھیلا ہوا تھا۔اور منادی ہورہی تھی۔