سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 81
سیرت المہدی 81 حصہ چہارم 1102 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک دن سیر کو تشریف لے جارہے تھے اور میرے پاس ڈبیا میں پان تھے۔چلتے چلتے میں نے ایک پان نکال کر کھایا۔آپ نے فرمایا۔ہمیں بھی دو۔میں نے ایک پان پیش کر دیا۔بغیر اس خیال کے کہ پان میں زردہ ہے۔میں نے وہ دے دیا اور آپ نے کھالیا۔کھاتے ہی چکر آیا ہوگا۔کیونکہ حافظ حامد علی صاحب سے حضور نے فرمایا کہ ذرا پانی کا لوٹالے کر ہمارے ساتھ چلو۔وہاں قریب کے کنوئیں سے پانی لیا گیا۔اور آپ دور تشریف لے گئے۔حافظ صاحب بھی ساتھ تھے۔آپ کی عادت شریفہ تھی کہ راستہ میں اگر پیشاب کرنے کی حاجت ہوتی تو اتنی دور چلے جاتے تھے جتنا کہ قضائے حاجت کے لئے جاتے ہیں۔اس لئے میں نے سمجھا کہ پیشاب کرنے تشریف لے گئے ہیں۔وہاں جا کر آپ کو استفراغ ہوا۔اور پانی سے منہ صاف کر کے تشریف لے آئے۔مجھے جب خیال آیا کہ پان میں زردہ تھا تو میں سخت نادم تھا۔آپ نے مجھے دیکھ کر ہنستے ہوئے فرمایا۔منشی صاحب آپ کے پان نے تو دوا کا کام کیا۔مجھے کچھ گرانی سی تھی بالکل رفع ہو گئی۔1103 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ مولوی محمد احسن صاحب امروہی ، مولوی عبدالرحیم صاحب میں تھی ، چند اور احباب اور خاکسار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس بیٹھے تھے۔حضور نے ایک اردو عبارت سنا کر فرمایا کہ اس مضمون کی مجھے یاد ہے کہ ترمذی شریف میں ایک حدیث ہے اور ترمذی شریف جو عربی میں تھی منگوا کر مولوی محمد احسن صاحب کو دی کہ اس میں سے نکالیں۔مولوی صاحب موصوف علم حدیث میں بہت کامل سمجھے جاتے تھے۔انہوں نے بہت دیر تک دیکھ کر فرمایا کہ حضور اس میں تو یہ حدیث نہیں ہے۔آپ نے فرمایا۔مولوی عبدالرحیم صاحب کو کتاب دے دو۔ان کو بھی وہ حدیث نہ ملی۔پھر آپ نے فرمایا۔منشی صاحب یعنی خاکسار کو دے دو۔میں نے کتاب کھول کر دو تین ورق ہی الٹے تھے کہ وہ حدیث نکل آئی اور میں نے حضور کی خدمت میں پیش کردی کہ حدیث تو یہ موجود ہے آپ اسے پڑھتے رہے اور مولوی محمد احسن صاحب بہت حیران ہوکر مجھ سے کہنے لگے کہ آپ بڑے فقیہ ہیں۔میں نے کہا کہ میری فقاہت اس میں کیا ہے۔یہ حضور کا تصرف ہے۔